اعلیٰ تعلیم کی آڑ میں برائیاں۔۔۔کیوں؟

اعلیٰ تعلیم کی آڑ میں برائیاں۔۔۔کیوں؟
تحریر: افضال احمد
کسی چیز کی ماہیت یا حقیقت دریافت کرنا‘ اس کے فوائد اور نقائص سے واقف ہونا‘ مقامِ استعمال کا جاننا اور مناسب مواقع پر اس سے مستفید ہونے کا نام علم ہے۔ علم ایک پائیدار دولت ہے‘ جس کو کبھی زوال نہیں۔ دنیا کی ہر چیز بلکہ دنیا خود فنا کا گھر ہے۔ ہر کمال کو زوال ہے‘ ہر آباد کے لئے برباد ہونا لازمی ہے‘ ہر بہار کے بعد خزاں ہے‘ ہر دن کے بعد رات ہے‘ ہر نور کے بعد تاریکی ہے‘ دولت مندی کے ساتھ غریبی ہے‘ تندرستی کے ساتھ بیماری ہے۔ غرض یہ کہ عالمِ مشاہدات میں ایسی کوئی چیز بھی ڈھونڈنے سے نہ ملے گی‘ جو گھٹتی بڑھتی نہ ہو‘ لیکن علم ایک وہ دولت ہے جسے ہمیشہ بڑھنے ہی سے کام ہے۔ جتنا خرچ کرو گے اتنا ہی بڑھتا جائے گا‘ علم کو چور کا ڈر نہیں‘ چوکیدار کی ضرورت نہیں‘ یہ دولت ہر وقت محفوظ ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گی۔
آج کل اعلیٰ تعلیم کی آڑ میں برائی انتہاء پکڑ گئی ہے۔ گھروں سے نوجوان لڑکیاں‘ لڑکے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے نکلتے ہیں اور آگے جا کر سکول‘ کالجز کے ٹائمز میں بوائے فرینڈ‘ گرل فرینڈ ایک دوسرے کے ساتھ ناجائز حرکتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نوجوان اپنے والدین کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اکثر والدین کو میں نے دیکھا ہے کہ اپنی بیٹیوں کو بہت مشکل سے مزدوری کرکے اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں اور وہی لڑکیاں آگے جا کر ’’بوائے فرینڈز‘‘ کے ساتھ برائی میں مبتلا ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ لڑکی اپنی عزت کی دھجیاں تو اُڑاتی ہے ساتھ ہی والدین کو بھی کہیں منہ دیکھانے کے لائق نہیں چھوڑتی۔ اب اگر ان لڑکیوں کے والدین کو پتہ چل جائے کہ ہماری بیٹیاں سکول‘ کالجز کے ٹائم میں اپنے ’’بوائے فرینڈز‘‘ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں مبتلا ہیں تو میرا تو خیال ہے کہ یہ والدین اچانک موت کا شکار ہو جائیں گے۔
اب بہت سے لوگ مجھے غلط بھی سمجھیں گے کہ شاید میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے خلاف ہوں۔ میں سب سے پہلے ایسے لوگوں کو بتانا چاہوں گا کہ میں عورت کی اعلیٰ تعلیم کے خلاف نہیں ہوں ہاں لیکن عورت اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر گھر سے نکل کر آگے جا کر ’’بوائے فرینڈز‘‘ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں مبتلا ہو جائیں اس کے خلاف ضرور ہوں۔ یہاں میں ایک آنکھوں دیکھا واقعہ بتاتا چلوں ’’میرا ایک دوست ہے اُس کی شادی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی سے ہوئی‘ شادی کی رات سب راز فاش ہو گئے‘ لڑکے کو لڑکی کی پوری حالت کا پتہ چل گیا صبح ہوتے ہی لڑکے نے لڑکی کو طلاق دے دی‘ اب اُس لڑکی نے اعلیٰ تعلیم کی آڑ میں انتہاء سے زیادہ غیر اخلاقی حرکات میں ایک لمبا عرصہ گزارا تھا‘ اُس لڑکی کا راز فاش ہوتے ہی جب لڑکی اپنے میکے طلاق لے کر گئی تو اُس کے والد صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا اور انتقال ہو گیا‘‘۔
یہاں والدین سے گزارش ہے کہ ایک طرف آپ نے اپنی نوجوان اولاد کی شادیوں میں تاخیر شروع کر دی ہے‘ دوسری طرف سوشل میڈیا اِن کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے‘ تیسری طرف نوجوان لڑکی اور لڑکوں کو ایک ہی ٹیبل پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیٹھا دیا ہے۔ تو بھائی جب آگ اور پٹرول کو ایک ٹیبل پر بیٹھا دو گے تو پھر کسی ایک کو جل کر راکھ ہونا ہے۔ میں اپنے اس بیان کی تردید کرتا چلوں کہ اگر میری اس بات کے کوئی خلاف ہے تو پچھلے 4 برسوں میں جتنی طلاقیں ہوئیں ہیں ان کی وجوہات تفصیلاً پتہ کریں تو میری اس بات کا جواب آپ کو مجھ سے مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ سوشل میڈیا نے ہمارے نوجوان کو برائی سے اتنا متعارف کروا دیا ہے کہ والدین کو بھی وہ باتیں معلوم نہیں ہوتی جو آج کل کے 12 سال کے بچے کو معلوم ہوتی ہیں۔
علم کی سینکڑوں کیا لاکھوں کرامات ہیں‘ جو ہمارے دیکھنے میں آرہی ہیں‘ وہ انسان جس کی آواز ایک یا دو فرلانگ تک بمشکل سنائی دیتی ہے۔ آج زمین کے ایک کونے میں بیٹھ کر دوسرے کونے تک سنا جا سکتا ہے۔ آندھیاں چلیں‘ بادل گرجیں‘ چیخ و پکار ہو کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے‘ لیکن مشرق کا انسان مغرب کے انسان کی باتیں سنے گا‘ انسان کو فضائے آسمانی میں کس نے اڑایا۔ سمندر کے سینے کس نے چیرے‘ ہوا میں آگ کس نے لگائی‘ پانی سے بجلی کس نے پیدا کی‘ اندھیرے گھروں کو نور سے منور کس نے کیا‘ علم نے‘ صرف علم نے۔ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنانا علم کا کام ہے ورنہ انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔ انسان کو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات کہا ہے اور ہے بھی ایسا۔
دیکھیں انسان کیلئے سپیشل کھانا تیار کیا جاتا ہے‘ کھانا کھانے کیلئے بہترین برتن موجود ہیں‘ کھانا پکانے کیلئے مصالحے موجود ہے‘ مختلف سبزیاں‘ گوشت اور پھر ان سب چیزوں کی نت نئی ڈشز بنا کر انسان ہی کھاتا ہے‘ بہترین سے بہترین لباس انسان ہی پہنتا ہے‘ جوتے انسان ہی پہنتا ہے۔ ہم جانور کو دیکھیں تو جانور مخصوص چیزیں کھاتے ہیں‘ گھوڑا گھاس کھاتا ہے گھوڑے کے آگے بہترین سے بہترین ہرن کا گوشت بھی رکھ دو گھوڑا منہ تک نہیں لگائے گا‘ شیر گوشت کھاتا ہے شیر کے آگے بہترین سے بہترین گھاس رکھ دو شیر گھاس کو منہ نہیں لگائے گا۔ جانور ننگا پھرتا ہے انسان کو اللہ تعالیٰ نے کپڑے پہنائے ہیں شعور دیا ہے لیکن آج کل انسان خود ننگا ہو رہا ہے۔ اس ننگے پن کو ہمارے معاشرے میں ’’نیا رواج‘‘ یا پھر ’’نیا فیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی اولاد کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم ضرور دینی چاہئے لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ نظر بھی اولاد پر رکھنی چاہئے۔ نہیں تو اچانک طلاقیں اور اچانک موت کا شکار ہونے کے لئے ہمیں تیاررہنا چاہئے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ موبائل دلواتے ہیں‘ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر والدین نے اپنی بیٹیوں کو اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ غریب گھرانے کی بیٹی کے پاس 25-30 ہزار والا موبائل ہوتا ہے والدین پوچھتے بھی نہیں کہ یہ موبائل تمہیں کس نے دیا؟ جب سر سے پانی گزر جاتا ہے تو اُسی پانی سے والدین کے مرے ہوئے جسموں کو غسل دے کر قبروں میں دفنا دیا جاتا ہے۔ لڑکے مختلف بہانوں سے لڑکیوں کو ورغلاتے ہیں اور لڑکیاں اپنا سب کچھ لوٹا بیٹھتی ہیں۔ تالی ہمیشہ دو ہاتھوں سے بجتی ہے میری کوشش ہے کہ لڑکیاں رک جائیں اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ والدین‘ خاندان کے نام پر داغ مت لگائیں۔
اعلیٰ تعلیم کا حصول لڑکی‘ لڑکے دونوں کا حق ہے۔ لیکن ان حقوق کی آڑ میں اپنی جسمانی حقوق کو پامال مت کرو۔ میں نے ایک جگہ دیکھا ’’بیالوجی‘‘کی تعلیم دی جا رہی ہے‘ بیالوجی میں لڑکی‘ لڑکے کے تمام جسم کے اعضاء سے آگاہی دی جاتی ہے۔ وہاں بھی لڑکی‘ لڑکا اکٹھے بیٹھ کر بیالوجی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اب اکٹھے بیالوجی کی تعلیم کے حصول کے بعد کیا کچھ ہوتا ہو گا آپ بھی جانتے ہیں میں بھی جانتا ہوں۔ آخر میں میں کہنا چاہوں گا کہ نوجوانوں کی شادیوں میں جلدی کریں یا پھر اعلیٰ حکام کو چاہئے کہ لڑکی‘ لڑکے کی تعلیم کے حصول کیلئے الگ الگ ادارے بنا دیئے جائیں۔ ایک میز پر چنگاری اور پٹرول کا بیٹھنا مناسب نہیں‘ ہم سب جانتے ہیں‘ آج کی طلاقوں کی شرح بھی ہمارے سامنے ہیں۔

Facebook Comments