والدین ہوش کے ناخن لیں

والدین ہوش کے ناخن لیں
تحریر: افضال احمد
اولاد کا نیک ہونا ایک نعمت اور ایک خوشی ہے اور اس کا نیک و فرمانبردار ہونا، شب بیدار و ذمہ دار ہونا دُگنی نعمت اور دُگنی خوشی ہے کیونکہ وہ دنیا میں نیک نامی، مرنے کے بعد صدقہ جاریہ اور قیامت کے دن باعث نجات و شفاعت ہو گی‘ جبکہ بُری اولاد تو انسان کیلئے دنیا میں بھی تکلیف کا سبب بنتی ہے اور آخرت میں بھی شرمساری کا باعث بنے گی۔ بُری اولاد کا کیا بتایئے وہ انسان کیلئے انگلی کی طرح ہوتی ہے، انسان نہ اس کو کاٹ سکتا ہے نہ برداشت کر سکتا ہے۔
بچے والدین کیلئے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ نیک اولاد اللہ تعالیٰ کا انعام عظیم ہے۔ اولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ نعمتیں تو اور بھی ہیں لیکن نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی عظیم نعمت ہے۔ کسی کی اولاد خراب ہو جائے‘ بگڑ جائے تو یہ سب مصیبتوں سے بڑی مصیبت ہے۔ قیامت کے دن بعض آدمی آئیں گے لوگ کہیں گے کہ اس کی اولاد نے اس کی نیکیاں کھا لیں۔ اور یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہو گا کہ آج کل کی اولاد کو بگاڑنے میں والدین کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
جو اولاد دینی تقاضوں سے بے خبر ہوتی ہے وہ ماں باپ کے حقوق سے بھی ناواقف ہوتی ہے۔ فیشن کی پرستار اولاد کے نزدیک ماں باپ کی حیثیت گھر کے بوڑھے ملازم سے بھی کم ہوتی ہے۔ اور نافرمان اولاد نہ زندگی میں ماں باپ کا اکرام و احترام کرتی ہے نہ موت کے بعد ان کے لئے دعا کرتی ہے۔ جن والدین نے اولاد کے دین اور آخرت کا ستیا ناس کر دیا ان کو اولاد سے نہ زندگی میں کچھ اُمید رکھنی چاہئے نہ موت کے بعد دعا و صدقہ کا منتظر رہنا چاہئے۔ جب دعا، صدقہ اور استغفار کی اہمیت و ضرورت ہی نہیں بتائی گئی تو وہ کیوں صدقہ دے اور کیسے دعا کرے؟
اولاد کے بگڑنے میں ماں باپ کی غلط تربیت کا بھی اثر ہوتا ہے‘ ببول کے درخت بیج کرگل ولالہ کی توقع رکھنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔ والدین کے مقام و مرتبہ سے نا آشنا اولاد سے ادب و احترام اور خدمت و اکرام کی امید باندھنا پانی میں آگ تلاش کرنا ہے۔ غلط ماحول میں پروان چڑھنے والی نسل نو سے وفاداری و خدمت گزاری اور اطاعت شعاری کی آس باندھنا ایسے ہے جیسے صحراؤں میں گلستان دیکھنے کی تمنا رکھنا۔ والدین کیلئے ضروری ہے کہ وہ بچپن ہی سے اپنی اولاد کو اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی طرف متوجہ کریں۔ اگر خدانخواستہ والدین نے ان کی اچھی تربیت نہیں کی اور وہ بڑے ہوتے چلے گئے‘ یہاں تک کہ مکلف ہونے کے بعد ان سے گناہوں کا صدور شروع ہو گیا تو چونکہ ان گناہوں کے وقوع پذیر ہونے میں والدین کی سستی، غفلت اور کوتاہی کو بھی دخل ہے اس لئے بچے تو گنہگار ہوں گے ہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے گناہوں کا وبال والدین پر بھی ہو گا۔
والدین سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ انہوں نے بچوں کو اخلاق حسنہ اور نیک تعلیم دی یا نہیں؟ ان کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ قوی کیا یا نہیں؟ انہیں محمد عربیؐ کی مبارک معاشرت‘ تہذیب و تمدن اور محبوب زندگی سے محبت کرنا سکھایا کہ نہیں؟ ان میں عبادات کا شوق پیدا کیا کہ نہیں؟ ان کے دلوں میں صحیح یقین کے بیج بوئے کہ نہیں؟ ان کو صبر و تحمل‘ اکرام ایثار‘ اخوت و مبت‘ سلوک و احسان‘ا یمان و احتساب اور اخلاص وللّٰہیت کے روشن کردار اپنانے کا راستہ دکھایا کہ نہیں؟ ان کو دنیا کی رعنائیوں سے آشنا کیا کہ نہیں؟ کل قیام تکے دن اولاد کے مستقبل سے کھیلنے والے والدین اور ان کی دینی تربیت نہ کرنے والے ماں باپ سے یہ پوچھا جائے گا۔

گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار
والدین کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہئے کہ اولاد ان کی اپنی ملکیت نہیں‘ نہ ہی وہ اسے اپنی مرضی سے حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے اپنی مرضی سے زندہ رکھ سکتے ہیں‘ دینا نہ دینا بھی اللہ کی مرضی پر منحصر ہے اور اور مختصر یا لمبی زندگی دینے کا دارومدار بھی اسی کی مشیت پر ہے‘ کوئی بچپن میں فوت ہو جاتا ہے تو کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ یہ اولاد والدین کے پاس اللہ کی ایک خوبصورت اور قیمتی نعمت ہے اس کے بارے میں خیانت نہ کیجئے بلکہ اس کا حق ادا کیجئے۔ جو والدین اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کرتے ہیں انہیں دینی اور دنیاوی تعلیم اور حسن اخلاق کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں وہ امانت کا حق ادا کرتے ہیں۔ جو والدین اس بارے میں تساہل اور تغافل سے کام لیتے ہیں اور افلاس کے ڈر سے یا چند ٹکوں کی خاطر انہیں ہلاکت و بربادی کے راستے پر لگا دیتے ہیں تو وہ ایک بہت بڑی امانت میں بہت بڑی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
بچے ہماری خوشیوں و شادمانیوں کے گلشن کے پھول اور کلیاں ہیں۔ اس گلشن کے لہلہاتے، مسکراتے، گنگناتے اور چہچہاتے شاداب گل اور غنچے ہیں۔ ان کی آبیاری، ان کی ہمہ وقت آبادکاری، ان کی نگہبانی اور باغبانی کرنا ہمارا فرض ہے۔ بالکل ایسے جیسے ایک باغبان باغ کے پیڑوں، پودوں اور پھولوں کی باغبانی کرتا ہے۔ وقت پر ان کو پنیری لگاتا ہے، زمین کو نمو کے قابل بناتا ہے، برے موسمی اثرات سے بچاتا ہے، نقصان دہ حشرات، کیڑوں، مکوڑوں اور سنڈیوں کے حملوں سے ان کو بچاتا ہے، ان کی تراش خراش کرتا ہے، ان کی نزاکت، خوبصورتی، رعنائی و زیبائی اور دلربائی کو بچانے کیلئے ہر جتن کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہمیں اپنی زندگانی کے گلشن ، چمن کے پھولوں اور کلیوں یعنی اپنے بچوں کی بہترین پرورش کرنی ہے‘ نماز کا وقت ہے تو بچوں کو نماز کا احساس دلائیں‘ سکول کے کام کا وقت ہے تو سکول کے کام کا احساس دلائیں۔ والدین بچوں کی دنیاوی تعلیم کی فکر میں رہتے ہیں نماز جانے کی فکر نہ والدین کو ہے اور نہ بچوں کو سکھایا گیا ہے۔
مولانا کریم بخش صاحب اکثر اپنے بیانات میں بگڑی اولاد کے واقعات سناتے ہیں فرماتے ہیں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہنے لگے میں اپنی اولاد سے بڑا تنگ ہوں۔ میرا جو فلاں بیٹا ہے آپ اس کیلئے بددعا کرو کہ وہ ’’مر‘‘ جائے۔ میرا بیٹا ایسے گناہوں میں مبتلا ہو گیا ہے کہ میں منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں ایک بھائی ان کے پاس آئے کہنے لگے میں علیحدہ بات کرنا چاہتا ہوں کہتا ہے خودکشی کب جائز ہے؟ میری بیٹی تھی اس کا معقول رشتہ تھا اس کی نسبت ہو چکی تھی لیکن وہ ایک آوارہ لڑکے کے ساتھ نکل کر چلی گئی ہے آٹھ دن کے بعد میں آج گھر سے نکلا ہوں، پوچھنے آیا ہوں کہ میں زہر کھا سکتا ہوں؟ ایک اور واقعہ میں بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا کہنے لگا بیٹا نشے کے ٹیکے لگاتا ہے، باپ کے سینے پر چڑھ گیا، اس کو اتنا مارا کہ منہ سوج گیا، زارو قطار یہاں آکر رونے لگ گیا، بعد میں پرچہ بھی کٹوایا تو نیک اولاد اللہ کریم کا انعام ہے آگے قسمت ہے غریب ہو یا امیر لیکن ہو نیک۔
آج کل کے والدین امیر اولاد کی بہت عزت کرتے ہیں چاہے وہ گناہوں میں مبتلا ہی کیوں نہ ہو‘ اور غریب اولاد کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے چاہے وہ غریب اولاد کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو۔ امیر اولاد آپ کو دنیا میں چند پیسوں سے فائدہ تو پہنچا سکتی ہے لیکن آپ کے مرنے کے بعد آپ کی نیک اولاد چاہے غریب ہی کیوں نہ ہو آپ کیلئے صدقہ جاریہ ہو گی۔ والدین نے پیسے کو دین ایمان بنا لیا ہے۔ امیر جمعہ کے دن گھر میں موجود ہو گا اور سو رہا ہو گا تو غریب نیک بیٹا کہے گا اماں جمعہ نماز کا ٹائم ہو گیا بھائی کو جگا دیں تو آگے سے ’’اماں‘‘ کا جواب ہو تا ہے اتنا کام کرتا ہے پورا ہفتہ میرا بیٹا اتنا پیسہ کماتا ہے سو رہا ہے تو سونے دو جمعہ نماز کی خیر ہے تم جو ہو ویلھے جاؤ جا کر جمعہ کی نماز پڑھو۔ چاہے وہ ویلھا بیٹا امیر بیٹے سے زیادہ محنت مزدوری کے باوجود بھی تھوڑا سا پیسہ کماتا ہو۔اہل علم میری اصلاح ضرور کریں۔

Facebook Comments