کاش والدین نے میری آگے کی زندگی کا سوچا ہوتا

کاش والدین نے میری آگے کی زندگی کا سوچا ہوتا
تحریر: افضال احمد

میں چند روز قبل خان پور جانے کے لئے ٹرین میں سفر کر رہا تھا ۔لودھراں کے قریب پہنچا تو وہاں سے ایک عورت کراچی جانے کیلئے جس کے 2 بچے بھی تھے ٹرین پر سوار ہوئی تھوڑا ہی ٹائم گزرا کے ٹکٹ چیکر ہمارے ڈبے میں ٹکٹ چیک کرنے کے لئے آ گیا وہ عورت ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر گھبرا ہو گئی میں سمجھ نہ سکا کہ اتنی گھبرا کیوں گئی ہے یہ ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر آخر ٹکٹ چیکر نے میری ٹکٹ چیک کی میرے سامنے والی سیٹ پر وہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی ٹکٹ چیکر نے عورت کو ٹکٹ چیک کرانے کو کہا تو عورت گھبرا گئی اور کہنے لگی ’’میں غریب عورت ہوں پیسے نہیں ہیں‘‘ برائے مہر بانی مجھے کراچی جانے دو ظاہر ہے ٹکٹ چیکر بھی ملازم تھا اپنا فرض تو پورا کرنا ہی تھا اُس نے عورت کو کہا پیسے دو میں ٹکٹ بنا دیتا ہوں بہت منت سماجت کے بعد بھی بات نہ بنی تو آخر میں نے اپنی جیب میں سے پیسے نکالے اور اُس عورت کو ٹکٹ خرید کر دے دی۔ وہ عورت مسلسل روئے جا رہی تھی مجھے بہت دکھ ہو رہا تھا اس کی حالت دیکھ کرمجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اُسے کھانا ، پانی پوچھا بچے بھی رو رہے تھے مجھے بہت رحم آیا اُس کی حالت پر خیر میں نے اُسے کہا آپ میری بڑی بہن جیسی ہیں کیا میں آپ سے تھوڑی بات چیت کر سکتا ہوں؟ تو اُس نے کہا جی ہاں ضروربھائی!
میں نے پوچھا آپ اکیلی سفر کیوں کر رہی ہیں آپ کی شوہر ‘ والدین‘ بہن بھائی آپ کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے اور بچوں کو آپ نے ٹھنڈ میں کپڑے بھی صحیح طرح نہیں پہنائے ہوئے؟ میں نے اُسے مکمل اعتماد دلایا کہ مجھے اپنا چھوٹا بھائی سمجھو جو بات ہے مجھے بتاؤ۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ رونے کیلئے بھی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے تو سمجھ لیجئے کہ میرا کندھا خدا کے کرم سے اُس کے کام آ گیا اُس نے اپنی ساری دُکھ بھری داستان مجھے سنائی جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے آپ اُس کی دکھ بھری داستان اُسی عورت کی زبانی سنئے انشاء اللہ آپ کو فائدہ ہو گا۔
میرا نام نادیہ ہے میرا ایک بھائی ہے جو مجھ سے 3 سال چھوٹا ہے ہم دو بہن بھائی ہیں ہمیں والدین نے بہت لاڈ پیار سے پالا ضرورت کی ہر چیز مہیا کی میری ماں مجھے گھر کے کام نہیں کرنے دیتی تھی اور میرے ابو میرے بھائی کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے بہت پیار کرتے تھے ہمیں۔ میں نے میٹرک کیا تو میرے والدین کو میری شادی کی فکر ہو گئی بہت عرصہ میرے رشتے دیکھتے رہے آخر ایک اچھا رشتہ آیا تو میرے ماں باپ نے میری شادی 25 سال کی عمر میں کر دی ‘ میرے والدین نے ضرورت کی ہر چیز جہیز میں دی خدا کا شکر ہے کہ میرا شوہر بہت اچھا تھا لالچی نہیں تھامجھے پیار بھی بہت کرتا تھا کوئی بات یا کوئی چیز مجھ سے چھپا کے نہیں رکھتا تھا‘ ہاں میرے شوہر کی آمدنی کچھ کم تھی لیکن میرا شوہر دل کا بادشاہ تھا میں ہر لمحہ دعا کیا کرتی تھی کہ میرے شوہر جیسا شوہر ہر عورت کو ملے۔
مجھ میں برداشت کی بہت کمی تھی کیوں کہ میری پرورش میں اور تربیت میں کمی رہ گئی تھی جو مجھے آج سمجھ آتی ہے۔ ایک دن میرا شوہر دفتر سے آیا تھوڑا پریشان تھا مجھ سے جھگڑ پڑا دفتر کا سارا غصہ مجھ پر نکال دیا‘ مجھ میں برداشت نہیں تھا میں نے شوہر کو آگے سے غلط جواب دینے شروع کر دیئے اپنی امی کو فون کیا مجھے آکر لے جائیں تو امی آئی انہوں نے بھی مجھے فوراً ساتھ لیا اور میں میکے میں جا بیٹھی ‘ میرا شوہر بہت اچھا تھا وہ سب کچھ بھلا کر میرے پاس آیا ہم سب نے اُسے بیٹھا کر اُس کی بہت بے عزتی کی یہاں تک کہ میرا چھوٹا بھائی جو اُن سے تقریباً 8 سال چھوٹا تھا اُس نے بھی میرے شوہر کی بے عزتی کر دی جو بہت غلط ہوا جس کا احساس مجھے آج ہوتا ہے‘ میں نے بھائی کو شوہر سے زیادہ اہمیت دی جو میری غلطی تھی۔

اولاد کی پیدائش سے قبل ماں کی تڑپ
خیر میرے شوہر نے کسی کو کچھ نہ کہا اور اُٹھ کر چلے گئے کافی دن رابطہ نہ ہوا ،نہ مجھے میرے والدین نے شوہر سے بات کرنے دی حالانکہ میرا شوہر تھا مجھے بہت پیار کرتا تھا لیکن میں اپنے والدین کی انا کے آگے کچھ نہ کر سکی ۔ میرے شوہر نے میرے چاچو سے رابطہ کیا کافی چکر لگائے اُنہوں نے میرے شوہر کو مجھ سے ملنے نہ دیا حالانکہ آج کل کے دور میں کون شوہر ایسا کرتا ہے جو اپنی بے عزتی کے باوجود بھی اپنے سسرال والوں سے رابطہ کرے خیر وہ اللہ لوک بندہ تھا۔ آخر کار مکمل طور پر رابطہ ختم ہو گیا ایک سال تک میرے شوہر نے میرا انتظار کیا لیکن میرے رابطہ نہ کرنے پر شوہر نے مجھے طلاق دے دی۔ میں نے پہلے بتایا کہ میرے شوہر لالچی نہیں تھے انہوں نے جہیز کا ایک تنکا تک بھی واپس کر دیا ۔میرے والدین نے مجھے کہا تم پریشان مت ہو تم لاوارث نہیں ہو ‘ ہم تمہارے ماں باپ ہیں ‘ ہمارے اُوپر بوجھ نہیں ہو تم‘ ہم تمہیں تمہارے شوہر سے اچھا کھلا پلا سکتے ہیں میرا کچا ذہن تھا میں نے واپس اپنے میکے میں دل لگا لیا۔ میرے والد نے بچے بھی لکھوا لئے میرے شوہر سے اُن کا خرچہ بھی شوہر نہیں دیتا۔
چند عرصے بعد چھوٹے بھائی کی شادی ماموں کی بیٹی سے ہو گئی ہم نے بہت دھوم دھام سے شادی کی (بہت سے لوگوں کی آوازیں میرے کانوں میں آئیں کہ طلاق یافتہ عورت سے لڑکی کو مہندی کیوں لگوائی برا شگن ہے) بھائی زیادہ کماتا بھی نہیں تھا لیکن ابو نے کبھی بھائی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا تھا جو ابو کی غلطی تھی‘ خیر 2 سال بعد ابو فوت ہو گئے اور امی بہت بیمار ہو گئی چھوٹے بھائی کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی خرچے بڑھ گئے امی کی دوائی میرا خرچہ میرے بچے کا خرچہ بھائی اتنا کماتا نہیں تھا خیر بھابی آخر بھابی ہی ہوتی ہے بھابی نے بھائی کے کان بھرنے شروع کر دیئے کہ یہ تمہاری طلاق یافتہ بہن ہمارے سر پر سوار ہو گئی ہے اس نے اپنا گھر تو بسایا نہیں ہمارا گھر بھی برباد کرے گی‘ میں نے بھائی کی بیٹی کو اُٹھانا تو بھابی نے فوراً مجھ سے یہ کہہ کر بیٹی واپس لے لینی کہ تمہارا منحوس سایہ میری بیٹی پر پڑے گا تو اس کا بھی گھر برباد ہو جائے گا۔ میں اند ر ہی اندر رونے لگی اور اپنے شوہر کو یاد کیا کرتی امی بیمار تھی اُنہیں کچھ نہ بتاتی کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ ابو کی جتنی جائیداد تھی اُس میں جو میرا حصہ بنتا تھا میں نے اپنے بھائی کے نام کر دیا اور میں بالکل خالی ہاتھ رہ گئی۔
بھائی کو میرا نہ میرے بچے کا نہ ہماری والدہ کا خیال تھا بس اپنی بیوی کے کہنے پر چلنے لگا ظاہر ہے مجھے سزا تو ملنی تھی جو میں نے اتنا اچھا شوہر گنوا دیا اپنے میکے والوں کی انا کی وجہ سے‘ کچھ عرصہ میں میری والدہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئی مجھے میرے بھائی ‘ بھابی نے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا میں نے چھوٹا سا گھر 4ہزار روپے کرائے پر لیا اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے لگی لیکن آج کل مہنگائی کا دور ہے کہاں پوری پڑتی ہے۔ بہت سارے لوگوں نے مجھ سے اپنی حوس کی بھوک بھی مٹائی اور میں اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کیلئے مجبور ہو گئی۔ میں روز رویا کرتی تھی اپنے میکے والوں کے غلط فیصلے پر کیوں کہ میرا تو ذہن کچا تھا والدین کو تو صحیح فیصلہ کرنا چاہئے تھا ۔
میرے پاس اتنی تعلیم تو تھی نہیں کہ مجھے اچھی نوکری مل جائے دو بچوں کا ساتھ بھی تھا ٹیوشن ‘گھر میں کپڑے سینے سے کام نہیں بنتا تھا آخر کار مجھے غلط راستے پر چلنا پڑا بچوں کو پالنے کیلئے میرے بھائی نے کبھی میری خیر خبر نہ لی۔ کچھ عرصے میں پتہ چلا کہ میرا شوہر شہر کا بہت بڑا تاجر بن گیا ہے جسے میں نے کم آمدنی کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا وہ آج شہر کے بڑے تاجروں میں سے ایک تاجر ہے۔ شوہر نے دوسری شادی کر لی تھی اُس بیوی میں سے بھی اُس کے بچے ہو گئے اور وہ بہت اچھی زندگی گزار رہا تھا۔ مجھے میرے والدین نے عقل نہ دی اُلٹا مجھے میرے شوہر کے خلاف کر دیا جس کا نتیجہ میں آج بھگت رہی ہوں ۔ والدین خود تو فوت ہو گئے مجھے دنیا میں ذلیل ہونے کو چھوڑ گئے۔
شادی کے بعد شوہر سے بڑھ کر کوئی بھائی نہیں ہوتا کوئی بھائی کام نہیں آتا ، ماں باپ صدا ساتھ نہیں رہتے۔ شوہر کے بغیر زندگی ادھوری ہے دنیا جینے نہیں دیتی ایک مرد (شوہر) کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے‘ میں نے‘ میرے والدین نے بہت بڑی غلطی کی جس کی سزا میں نے پوری زندگی کاٹنی ہے۔ جس بھائی پر مجھے فخر تھا اُس نے مجھے دھکے دے کر نکال دیا میں سڑک پر آگئی‘ جس بھائی کی وجہ سے میرا گھر برباد ہوا۔ اُس بھائی نے اپنا گھر بسانے کیلئے مجھے گھر سے نکال دیا۔ آج میری جوانی ڈھل گئی تو آج میں اکیلی ہوں۔ کاش میں نے اپنے نکاح کے بندھن کے کچے دھاگوں کو مضبوط کر لیا ہوتا۔

Facebook Comments