بیٹی کو رخصت کرتے وقت کی نصیحتیں

تحریر: افضال احمد
والدین اپنے بچوں خاص طور پر بچیوں کی شادی کیلئے بہت فکر مند رہتے ہیں۔ اس دن کا انتظار کرتے ہیں جب دنیا جہان کی خوشیاں سمیٹ کر اپنی بچی کی جھولی میں ڈال دیں۔ بہترین آرزوؤں اور تمناؤں کے ساتھ ایک تابناک اور روشن مستقبل کی طرف، خوشی اور جدائی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ، آنسوؤں کی پرنور بارش میں اسے نئے اور اصل گھر کی طرف روانہ کر دیں۔ اپنی بچیوں کو بتائیں کہ اب آپ کا سفر اس گھر کی طرف ہے جسے آپ اپنا گھر کہیں گی اور جس گھر سے جا رہی ہیں وہ اب آپ کیلئے ’’ماں باپ کا گھر‘‘ کہلائے گا۔ آپ اس نئے گھر کی عزت کہلائیں گی۔ آئندہ آپ کی پہچان اس نئے گھر سے ہو گی۔
جس گھر میں آپ قدم رکھیں گی وہ نیا ہوتے ہوئے بھی نیا نہیں اس میں کوئی بھی فرد اور کوئی بھی رشتہ نیا نہیں بالکل اسی گھر کی طرح ہے جہاں آپ نے پچھلے 21-20 سال ہنسی خوشی گزارے معذرت سے آج کل تو رواج ہی ختم ہو گیا ہے اس عمر میں شادی کرنے کا آپ کہیں گے 30-35 سال ہنسی خوشی گزارے۔ یہاں آپ کے ماں باپ تھے جو آپ کو بہت عزیز رکھتے تھے اور آپ بھی ان سے بہت پیار کرتی تھیں۔ اس نئے گھر میں بھی ویسے ہی امی، ابو ہیں جو آپ کو اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر پیار کریں گے شرط یہ ہے کہ آپ بھی ان کو وہی پیار دیں۔
پچھلے گھر میں آپ کے بہن بھائی تھے جو آپ پر جان نچھاور کرتے تھے اور آپ بھی ہر دم ان کے آرام و سہولت کا خیال رکھتی تھیں ۔ اس نئے اجلے گھر میں بھی آپ کو ایسے ہی بھائی بہن ملیں گے جو آپ کے پیار و محبت کے جواب میں زیادہ پیار و محبت دیں گے۔ پچھلے گھر میں تمام عزیز و رشتہ دار آپ کی خواہشوں کا احترام کرتے تھے۔ آپ کی اپنی بھی شعوری کوشش ہوتی تھی کہ آپ ان کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیں۔ اب اس گھر میں بھی اسی طرح کے عزیز رشتہ دار آپ کی راہ تک رہے ہیں اور آپ کو اجلے اجلے سہانے ماحول میں ہنسی خوشی خوش آمدید کہتے ہیں۔
پیاری بیٹی! اس مختصر سے موازنے سے آپ کو احساس ہو گیا ہو گا کہ یہ نیا گھر، نیا ہوتے ہوئے بھی نیا نہیں ہے۔ اس میں کوئی رشتہ نیا نہیں ہے۔ ہاں اس گھر میں صرف ایک رشتہ نیا ہے ایک نہایت اہم شخص جو آپ کی زندگی میں پہلے نہیں تھا۔ اسی کی موجودگی اس سارے ماحول کو نیا پن دے رہی ہے اس سارے گھر کو زیادہ پیارا بنا رہی ہے۔ آپ کی زندگی کو نیا روپ عطا کر رہی ہے بتا سکتی ہیں وہ کون شخص ہے؟ جی ہاں وہ شخص ہے ’’آپ کا شوہر‘‘ آپ

کاش والدین نے میری آگے کی زندگی کا سوچا ہوتا

کا مجازی خدا، یہ نئی ہستی، نیا شخص آپ کی تمام خوشیوں اور مسرتوں کا حامل، آپ کا شوہرنامدار ہے جو صرف آپ کا شوہر ہے۔ آپ دونوں میں کوئی تیسرا شریک نہیں۔ یہ بندھن کوئی سیمنٹ‘ پلاسٹر اور لوہے کی زنجیروں سے نہیں بندھا بلکہ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے حکم اور سنت رسولؐ کے فرمان سے قائم ہوا ہے۔ اب یہاں ٹھہر کر آپ کو سوچنا ہے، غورو فکر کرنا ہے کہ اس نئے رشتے کے قائم ہونے سے آپ کے اور آپ کے خاوند کے دوسرے رشتوں میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔
پیاری بیٹی ! سنو تمہارا شوہر صرف تمہارا ہی نہیں بلکہ تمہاری طرح کسی ماں کا لخت جگر ہے، کسی باپ کی آنکھ کا نور ہے، کسی بہن کے دل کا سرور ہے، کسی بھائی کا بازو ہے اور بہت سے رشتہ داروں کے ساتھ مختلف رشتوں میں بندھا ہوا ہے آپ کے ساتھ رشتہ باندھنے کے بعد اس کے پرانے رشتے خدانخواستہ ٹوٹ نہیں گئے وہ تمام رشتے قائم ہیں(جو آج کل کی نہ لڑکی سمجھتی ہے اور نہ لڑکی کے والدین‘ لڑکی کہتی ہے بس اب یہ میرا ہی خاوند ہے بھاڑ میں گئے سب رشتے)ان رشتوں کے حقوق و فرائض اپنی جگہ موجود ہیں بلکہ آپ کے ساتھ شادی کرنے کے بعد ان رشتوں میں ’’نیا پن‘‘ آجائے گا اور ان میں ایک نیا رخ پیدا ہو گا۔ اس گھر کی خوشیاں بڑھیں گی۔ اس گلستان میں زیادہ پھول کھلیں گے۔ اس گھر اور خاندان کی رونق کو دوبالا کرنے کیلئے آپ کا کردار ایک کلیدی رول ادا کرے گا۔ آپ کا ہر عمل اسے نیا انداز، نیا رخ دے گا۔
یہ نہ صرف آپ کے اخلاق اور کردار کا امتحان ہے بلکہ آپ کے ماں باپ کی تربیت کا امتحان ہے۔ ان کی عزت اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کو اس امتحان میں سرخرو ہونا ہے۔ اپنی فرمانبرداری اور خدمت گزاری سے شوہر کو اپنی محبت کا یقین دلانا ہے۔
بیٹی! ان سب رشتوں کی قدر کرو۔ یہ تمہاری قدر کریں گے۔ ہر عظیم آدمی کے پیچھے ایک عظیم خاتون کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ تم وہ عظیم عورت بنو دوسروں سے کبھی حسد نہ کرنا، خاص طور پر بھائیوں، نندوں وغیرہ سے کیونکہ دیورانیوں، جیٹھانیوں سے مقابلہ کرنا خود کو نقصان پہنچانے والا کام ہے حسد کرنے والا خود آگ میں جلتا رہتا ہے جس سے صحت اور مزاج برباد ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہر و بیوی کے رشتے کو لباس سے تشبیہ دی ہے۔کیا خوبصورت تعلق بتایا گیا ہے نہایت لطیف اشارہ فرمایا کہ شوہر و بیوی کا رشتہ بہت قریب کا رشتہ ہے ایک دوسرے کے دشمن یا مخالف کا رشتہ نہیں۔
لباس اور جسم دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے دونوں کی جنس مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کا سکون دوسرے سے وابستہ ہے دونوں ایک (اکائی) ہونے کے باوجود زوج (جوڑا) ہیں۔ دونوں اپنی ذات میں ایک دوسرے کا جزو ہیں جسم اور لباس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ ایک دوسرے کی عزت ایک دوسرے کیلئے پردہ پوش، رازدان اور رازدار ہیں۔ ایک دوسرے کے محتاج، جسمانی اعتبار سے ایک دوسرے کے نہایت قریب، ایک دوسرے کیلئے زیب و زینت، سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کے امین، انتہائی رازدار، ایک دوسرے کیلئے اطمینان، سکون، راحت و آسائش اور وقار کا موجب ہیں۔ ایک دوسرے کا لباس فرما کر بہت ہی پاکیزہ اور کامل تشبیہ دی گئی ہے کہ میاں بیوی دونوں لباس کی طرح ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں لباس کی طرح ایک دوسرے کا حسن ہیں۔ ایک دوسرے کے عیب چھپائیں کیونکہ خوبصورت لباس جسم کے عیب ڈھانپ لیتا ہے۔ جس طرح لباس کے بغیر انسان نہیں رہ سکتا اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں جس طرح جسم اور لباس ایک دوسرے کے قریب ترین ہیں اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے قریب ترین ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔
شوہر اور بیوی ایک خاندان کی بنیاد ہیں۔ اگر ان کے درمیان باہم اختلاف ہو تو پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ‘ معاشرہ متاثر ہوتا ہے، اس لئے اسلام میں خاندانی زندگی اور خاندانی نظام کو بہت اہمیت حاصل ہے اور ہر قیمت پر اسے بحال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔لباس انسان کیلئے عزت و وقار کا باعث ہوتا ہے اسی طرح مرد و عورت کا باہمی تعلق، عزت اور وقار کا سبب ہوتا ہے ۔اگر بیوی اپنے شوہر کی باتیں ماں باپ سے کرتی ہے تو لباس پھاڑ رہی ہے۔ اور اگر شوہر اپنی بیوی کے عیب کہیں ادھر ادھر بتاتا ہے تو وہ بھی لباس کو تار تار کر رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ایک دوسرے کی حفاظت اور ایک دوسرے کیلئے خوبصورتی اور عزت کا سبب ہیں۔ اچھے نرم ماحول میں ایک دوسرے کی کمزوریوں کو آپس میں ڈسکس کر لیا جائے تو وہ بہتر ہے بجائے اس کہ تیسری جگہ جا کر نشر کیا جائے جس سے بد مزگی اور فساد بڑھتا ہے۔عورت کیلئے بہتر نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی مخالفت میں اپنے ماں باپ کی اطاعت کرے کیونکہ شوہر کی اطاعت ماں باپ کی اطاعت سے بھی بڑھ کر ہے۔ اولاد سے محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے تمام معاملات کی امین خاتون بہترین بیوی ہے۔
ذرا سوچو بیٹی بالکل ٹھیک اسی طرح آج سے کئی برس پہلے تمہاری طرح ایک نوخیز کلی خوشبوؤں میں بسی اسی گھر میں آئی تھی۔ اس نے آکر اس گھر کو تمہاری آمد کیلئے تیار کیا، اس روز کیلئے آراستہ کیا، اس دن کا انتظار کیا، اب آپ کو اسی طرح اس رشتہ کی مدد اور رہنمائی سے اس گھر کو پہلے سے بھی زیادہ روشن اور تابناک بنانا ہے میں ان راہوں سے کامیاب و کامران گزر چکی ہوں۔
ایک عرب ماں نے شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو چند نصیحتیں کیں جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس نے کہا اے بیٹی! تم اس کیلئے زمین بن جاؤ وہ تمہارے لئے آسمان بن جائے گا۔ اس کی ناک، کان، آنکھ کا خیال رکھنا، یعنی خوشبو کا اہتمام کرنا، میٹھے بولوں سے اس کے کان بھردینا، اپنی ظاہری حالت کو اچھا رکھنا تا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت و تسکین بن جاؤ، غلطیوں پر چشم پوشی کرنا، غصے کی حالت میں خاموش رہنا کیونکہ خاموشی بہت سے فسادات کو ختم کر دیتی ہے، شکوے شکایتوں کی کثرت نہ کرنا، شوہر غریب ہو تو اسے امیر ہی سمجھنا، اس کی حیثیت سے زیادہ کسی چیز کی فرمائش نہ کرنا، زندہ دل بن کر رہو، شوہر کی پسندیدہ بنو، کھانا کھاتے وقت دلچسپ باتیں کرکے شوہر کے دل کو جیت لو، شوہر ناراض ہو تو راضی کر لو، شوہر کا مزاج پہچانو، شوہر حکم دے اس کی فرمانبرداری کرو۔
آخر میں میں آپ سب کا شکر گزار ہوں جو آپ نے میری تحریروں کو پسند کیا مجھے امید بھی نہیں تھی کہ آپ سب مجھے اتنا پیار دیں گے۔ بچپن سے دل کرتا تھا کہ میں خلق خدا کی خدمت کروں ‘ بہت سے ایسے غریب لوگوں کو جانتا ہوں جن کی بیٹیاں جہیز کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی ہیں بہت سے غریب گھروں میں 2 وقت کی روٹی میسر نہیں ہے لیکن میں تو خود ایک غریب سا انسان ہوں میں اُن کا دل باتوں سے تو بہلا سکتا ہوں لیکن انہیں کچھ دے نہیں سکتا جیسے آپ سب کی خدمت مضامین کے ذریعے کرتا ہوں۔ امیر لوگوں پر مجھے حیرانگی ہوتی ہے جو حق دار کو اس کا حق نہیں دیتے راہ چلتے فقیروں کو بہت دیتے ہیں کبھی سوچئے گا ضرور کہ راہ چلتے فقیروں میں سے کبھی کسی نے بیروزگاری کی وجہ سے خودکشی کی؟ خودکشی ہمیشہ ایسے لوگ کرتے ہیں جو مانگنے کو موت سمجھتے ہیں لیکن امیر لوگوں کو چاہئے کہ چھان بین کرکے حقدار کو حق پہنچائیں۔ میرا علم انتہائی ناقص ہے مجھے ناقص علم والا سمجھ کر میری غلطیوں کو معاف فرمایا کریں۔ لکھنے کو تو میں روزانہ کچھ نہ کچھ لکھ سکتا ہوں لیکن گھر کا خرچہ میں چلاتا ہوں اور لکھنے کیلئے ٹائم چاہئے ہوتا ہے۔ اور نہ تو میں کوئی فلم سٹار ہوں نہ کوئی سپر سٹار جو لوگ میرے کہنے پر صحیح لوگوں کی مدد کریں گے۔ میں کوشش کیا کروں گا کبھی کبھی مضمون لکھ کر آپ سب کی خدمت میں پیش کیا کروں سب لوگ میری ترقی اور کامیابی کیلئے دعا کیا کریں، میری اصلاح بھی ضرور کیا کریں۔ میں نے ’’سماج رواج‘‘ کے چراغ کو بہت مشکل سے روشن کیا ہے یہ چراغ آپ کا اپنا ہے اپنے گھروں کے اندھیرے چراغوں کو ضرور میرے روشن چراغ سے روشن کرنا۔

Facebook Comments