معاشرے میں معذور افراد کا کردار

انسان اپنی زندگی کا مالک خود ہوتا ہے۔اسے ہر خبر کا پتا ہوتاہے۔اس کا کردار کیا ہے اور کس طرح ہے۔کوئی کسی کی آزادی نہیں چھین سکتا۔ خود مختیار ہونے کے ناطے ایسی غلطیاں انسان کر جاتاہے ۔جس کا بعد میں رونا اس کے لیے کوئی اچھائی کا سبب نہیں بنتا۔آج کے اس دور میں کوئی کسی کے کردار سے پوری طرح واقف نہیں ہے۔دنیا میں سب آباد ہوتے ہیں امیر ، غریب ، سردار ، فقیر ، یتیم ، مسکین اور معذور انسان۔ انسان تو سب ہیں ۔ پر انسان انسان میں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔سب کے اپنے کردار ہوتے ہیں پر کردار کردار میں فرق ہوتا ہے۔کوئی اپنا بنا کے کردار ادا کرتا ہے اور کوئی غیر سمجھ کر کردار ادا کرتا ہے۔معاشرے میں کردار امیروں کے لیے تالیوں کا سیج بن جاتاہے۔اگر یہی ایک معذور اپنا کردار ادا کرے تو انسانیت الٹا ناچ ناچتی ہے۔اسے فنکاری کے تانے اور اس پر غلط الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔اور اس کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے اس کے کرداروں کو مذاق میں بدل دیا جاتا ہے۔
معاشرے میں معذورافراد کے کردار کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی۔اکثر معذور افراد اپنا کردار ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔کیوں کے لوگوں کی نظر میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔بہت کم معذور افراد معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لوگ ان کے کرداروں سے سیکھ رہے ہیں کہ ان معذوروں میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ اپنی زندگی خود بنا سکتے ہیں۔معذور افراد کو معاشرے میں بہت کم کردار ادا کرنے دیا جاتا ہے۔معاشرے میں معذور افراد اپنا کردار ادا کر کے اپنی منزل پانے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کے کردار میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ نفرت کی نگائیں پیار میں بدل جاتی ہیں۔
معذور افراد معاشرے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اگر انہیں بہتر تربیت ، تعلیمی سہولیات اور موضوع ماحول مہیا کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمان کی بلندیوں کو نہ چھو سکیں۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنے آپ کو فائدہ دے سکتے ہیں بلکہ اپنے وطن کو بھی بہت فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ معذور افراد کے حوصلے بلند ، ہمت اور جہاں ارادے پختہ ہوتے ہیں وہاں منزل دور نہیں ہوتی۔آج معذور افراد کو تعلیمی سرگرمیوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔ دن بدن مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ان کو ان کے کرداروں سے ہٹایا جا رہا ہے۔
معذور افراد کے لیے ان کے کرداروں کو بے کار نا کیا جائے۔ ان کے کرداروں کو معاشرے میں ایک مثال بنا دیں۔ عام انسانوں کی طرح معذوروں کا بھی یہ بنیادی حق ہے کہ انہیں تعلیم کے حصول کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔جو معذور افراد کی تعلیم و تربیت کا بہترانتظام مہیا کر سکیں۔اول معذور افراد کے لیے الگ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کا انتظام ہونا چاہیے۔ جہاں سارے معذور افراد ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ اورمعذور افراد ان میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں ۔ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے معذور افراد تعلیمی سرگرمیوں سے دور رہ جاتے ہیں۔معذور افراد کے لیے ہر تحصیل میں مڈل تک سکول بنانا زیادتی کی انتہا ہے ۔ (معذور افراد جو دیہاتوں میں آباد ہیں ان کو تعلیم سے دور رکھنا کہاں کا انصاف ہے ؟ کیا ان کے ہاں تعلیم کی کوئی قدر نہیں؟) ان کو تعلیم سے دور کیوں رکھا جا رہا ہے۔
ہمارا معاشرہ چند افراد کو اہمیت دے کر باقی معذور افرادوں کا حق مارتے ہیں۔کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان کی زندگی گھر میں کیسے گزر رہی ہے۔ان کو روز گار سے دور رکھا جاتا ہے ۔انکی معاشرے میں کردار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔در بدر کی ٹھوکریں کھا کر زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔احساس ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے اپنے ہوتے ہیں۔
خدارا ! معاشرے میں معذور افراد کو حقیر نا سمجھا جائے۔بلکہ ان کے کرداروں کو ایک مثالی اہمیت دینی چاہیے۔ اور ان کو ہر میدان میں اپنے ساتھ موقع دینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی توفیق دے۔۔۔۔( آمین )
تحریر : اسپیشل پرسن : امجد رسول

Facebook Comments