منتظر سحر

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا۔ اور اپنا نائب خلیفہ بنایا۔نائب بنا کر انسانوں پر کچھ ذمہ داریاں دے دیں۔اللہ نے انسان کو ایک خوبصورت جوڑے میں بنا کر زندگی کی راہیں ہموار کر دیں۔مرد اور عورت اپنی زندگی کے اصول خود بنا کر جیتے ہیں۔زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔بدلتے حالات کا پتا نہیں چلتا کہ کب کیا ہونے والا ہے۔اللہ نے عورت کو ایک رحمت کا درجہ دیا ہے۔یہ عورت تین صورت میں ملتی ہیں۔
1 ۔ ماں
2 ۔ بہن
3 ۔ بیٹی
جن کی قدر کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔دنیا کی اس نگری میں عورت کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہ اپنی راہیں خود تلاش کرتی ہیں۔ عورت اپنی ہار نہیں مانتی ہر مشکل سے لڑ جاتی ہے۔بہت سے ظلم سہہ جانے کے بعد بھی ہنس دیتی ہے۔ایک ایسی میڈم جن کی زندگی دوسری عورتوں سے مختلف ہے۔جب میں ان سے ملا تو جان کر محسوس ہوا کہ سب سے الگ ،سب سے اعلیٰ سوچ رکھنے والی اور پاکستان کے غریب بچوں کو علم سے روشن کرنے والی خاتون میری زندگی میں ان جیسی نہیں آئیں۔
میڈم مدیحہ بتول کون ہیں
ملتان کی رہائشی میڈم مدیحہ بتول نے ایم فل کر کے اپنی زندگی ایسے بچوں پر قربان کر رہی ہیں۔جن تک تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔تعلیم حاصل کر لینا کوئی بڑی بات نہیں ۔تعلیم کو دوسروں تک پہنچاناسب سے بڑا جہاد ہے۔آج کے اس پر فتن دور میں میڈم مدیحہ بتول تعلیم کو گلی گلی، نگر نگر، کوچے کوچے، دیہاتوں میں جہاں تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں وہاں تک علم سے بچوں کوروشن کر رہی ہیں۔

15577400_1894538234109865_1156202384_n
میڈم مدیحہ بتول نے اپنے مقاصد کو ایک فلسفہ حیات بنایا۔ اعلیٰ تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اندر علم کی شمع پیدا کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہیں۔آج کا جدید دور انٹرنیٹ پر مشتمل ہے ۔لوگ انٹرنیٹ سے کافی معلومات سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔اجنبیوں کو انسانیت کے پلیٹ فارم پر رکھ کر امن کاپیغام پہنچایا۔امن کا پیغام پہنچانے کے لیے جگہ جگہ اپنے آپ کو پیش کر رہی ہیں ۔ علم واحد راستہ ہے جو ہر مشکل کو آسانی سے حل کر لیتا ہے۔ علم کی طاقت بے شعور کو شعور میں لاتی ہے۔علم کی شمع لوگوں کے اندر احساس، بیداری اور محبت کی امنگ پیدا کرتی ہے۔ملک کے بچوں کو علم کی روشنی سے ہمکنار کرنے کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا واحد نیٹ ورک ہے جہاں سے لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔یہ نیٹ ورک وسیع ہونے کی وجہ سے لوگ دور بیٹھے ہر خبر سے واقف ہوتے ہیں۔میڈم مدیحہ بتول نے سوشل میڈیا میں جب قدم رکھا تو لوگوں کی فلاح کے لیے سر گرم ہوئیں۔میڈم مدیحہ بتول سوشل میڈیا پر مکمل اعتماد کرتی ہیں اور مثبت سوچ رکھ کر لوگوں کو بھلائی اور سیدھے راستے پر چلنے کا پیغام دے رہی ہیں۔ میڈم مدیحہ بتول تعلیم کے لیے بھی سوشل میڈیا پر مسلسل ورک کر رہی ہیں ۔ تعلیم کے میدان میں سوشل میڈیا پر دن رات کام کر رہی ہیں۔ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ان کی محنت اور لگن پر ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ سوشل میڈیاپر ایسے بچوں کے لیے کام کر رہی ہیں جہاں تعلیم کا کوئی نظام نہیں۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کر کے لوگوں کو حق کا پیغام دینا میڈم مدیحہ بتول کا ایک بہت اچھا کردار ہے ۔

15451224_1894537507443271_1873550972_n
میڈم مدیحہ بتول پنجاب کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایک مجاہدہ کی طرح علم کے میدان میں افغانستان کے قریبی بارڈر چمن کے علاقے میں سکول کے نظام کو روشن کیا۔جہاں تعلیم کا کوئی نظام نا تھا۔ خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے علم کا جھنڈا چمن میں لہرا دیا۔چمن کے علاقے میں پڑھائی پر پابندی لگی ہوئی تھی۔اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے اور لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سے اجاگر کیا ۔اور لوگوں کے اندر تعلیمی شعور بیدارکیا ۔ میڈم مدیحہ بتول پاکستان کے ہر کونے میں تعلیم کے لیے مسلسل کوشش میں ہیں۔ ان کی کوشش ان جگہ پر ہے جہاں تعلیم کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ تعلیم کی سر گرمیوں کو پھیلانے کے لیے مختلف ایوارڈ بھی حاصل کر ر ہی ہیں ۔ علم کی روشنی پھیلانا ہر مرد عورت کا فرض ہے۔مسلسل تعلیمی سرگرمیوں پر جدوجہد کرنے والی خاتون آج قوم کا سر فخر سے بلند کر رہی ہے۔ان کی یہ محنت بہت سے گھروں کو علم سے روشن کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت اور لگن کو رنگ لگائے۔اور ان کی حفاظت کرے ۔اللہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کو ہر خوشی دے جو ان کی اپنی خواہش ہے۔ آمین
تحریر :
اسپیشل پرسن امجد رسول
ضلع : رحیم یار خان

Facebook Comments