شادیوں کیلئے بارات کا اہتمام

تحریر: افضال احمد
اس دنیا میں بسنے والے انسان خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم‘ مرد ہوں یا عورت ہر ایک کے سامنے شادی کا مسئلہ ہوتا ہے اور یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے آج دنیا بڑی پریشان نظر آتی ہے۔ غریب ہو یا مال دار‘ دین دار ہو یا بد دین‘ شادی کے مسئلہ میں ہر ایک فکر مند ہے اور انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ پریشان کن یہی باب سمجھا جاتا ہے۔ غریبوں کا تو پوچھنا ہی کیا مالداروں کی شادیاں بھی جیسی کچھ ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں ان کو جو زحمتیں اٹھانا پڑتی ہیں وہی جانتے ہوں گے۔
اسلام نے شادی کو سب سے آسان عمل بتلایا تھا ۔ حضور ؐ اور صحابہ کرامؓ نے اسے آسانی و سادگی کے ساتھ عمل کرکے بھی دکھلایا تھا لیکن آج شادی ہی سب سے زیادہ مشکل امر بن کر رہ گیا ہے۔ شادی تو ایک خوشی کی چیز ہوتی ہے لیکن اب اس زمانہ میں شادی ایک مصیبت اور غم کا سامان بن کر رہ گئی ہے کتنی نوجوان لڑکیوں نے گلہ گھونٹ کر پھانسی لگا لی‘ اپنے جسم کو آگ لگا کر جلا ڈالا اور کتنے والدین ایسے ہیں کہ لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر ہی آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور کتنے ہوں گے کہ انہوں نے صرف اس بنا پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی کہ لڑکی کیوں پیدا ہو گئی‘ لڑکی کا پیدا ہونا اس زمانہ میں ایک مصیبت اور آفت بن کر رہ گیا ہے۔
اسلام کے قریب جو حالت کفار کی تھی اس کے قریب آج کی حالت ہو گئی ہے اور یہ محض اس واسطے کہ لڑکی ہو گی تو اس کی شادی کی فکر ہو گی آج کل کی شادی تو خانہ بربادی ہے۔ لڑکی کے واسطے لڑکے کا انتخاب اور اس کا معیار‘ لڑکی کے جہیز کی فکر‘ خاندان کے افراد کی خوشامد اور ان کی دعوت کا اہتمام‘ رسوم اور رواج کی پابندی اور اس میں پانی کی طرح پیسہ بہانا‘ آج کل کی شادی کے لوازمات میں سے ہو گیا ہے غریب آدمی بھلا ان سب باتوں کی سکت کہاں رکھتا ہے؟ غریب ہی کی کیا تخصیص ہے امیر و مال دار بھی اس قسم کی پریشانیوں سے محفوظ نہیں رہے۔
آج میں آپ کو بارات کے حوالے سے چند تاریخی باتیں جو مجھ سمیت ہمارے معاشرے میں بسنے والے بہت سے لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھی آج آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ اصل میں یہ بارات وغیرہ ہندوؤں کی ایجاد ہے کہ پہلے زمانہ میں امن نہ تھا اکثر راہزنوں اور ڈاکوؤں سے دو چار ہونا پڑتا تھا‘ اس لئے دلہا‘ دلہن اور اسبابِ زیور وغیرہ کی حفاظت کیلئے ایک جماعت کی ضرورت ہوا کرتی تھی اور حفاظت کی مصلحت سے بارات لے جانے کی رسم ایجاد ہوئی اور اسی وجہ سے فی گھر ایک آدمی لیا جاتا تھا کہ اگر اتفاق سے کوئی بات پیش آئے بھی تو ایک گھر میں ایک ہی عورت بیوہ ہو‘ اور اب تو امن کا زمانہ ہے ‘ اب اس جماعت کی کیا ضرورت ہے؟ اب حفاظت وغیرہ تو کچھ مقصود نہیں‘ صرف رسم کا پورا کرنا اور نام آوری مدِ نظر ہوتی ہے۔
ان رسموں نے مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہاں منگنی کو قیامت صغری اور شادی کا نام قیامت کبری کہنا بھی بہتر ہے جو آج کل ہم نے شادی کو قیامت بنا رکھا ہے۔ بارات کے بغیر ہماری شادی مکمل نہیں ہوتی اس لئے کبھی دولہا والے اور کبھی دلہن والے بڑے بڑے اصرار و تکرار کرتے ہیں اور اس سے غرض شہرت اور تفاخر ہے۔ عموماً براتی مقدارِ دعوت سے زائد ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے بے چارے میزبان کو سخت دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کہیں قرض لیتا ہے کہیں اور کچھ فکر کرتا ہے غرض بہت خرابی ہوتی ہے۔
بارات میں انار‘ پٹاخے اور آتش بازی چھڑانے میں کئی گناہ ہیں‘ اول تو یہ کہ پیسہ فضول میں برباد ہوتا ہے قرآن پاک میں مال اڑانے والوں کو شیطان کا بھائی فرمایا گیا ہے‘ اور ایک آیت میں فرمایا ہے کہ فضول مال اڑانے والوں کو اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے‘ یعنی ان سے بیزار ہیں۔ دوسرا نقصان ہاتھ پاؤں کے جلنے کا اندیشہ یا مکان میں آگ لگ جانے کا ہوتا ہے اور اپنی جان و مال کو ایسی ہلاکت اور خطرے میں ڈالنا خود شریعت میں برا ہے۔ تیسرا نقصان اکثر لکھے ہوئے کاغذ آتش بازی کے کام میں لائے جاتے ہیں خود حروف بھی ادب کی چیز ہے اس طرح کے کاموں میں ان کو لانا منع ہے۔
بعض لوگ بارات کے موقع پر اس کا سامان اور انتظام کرتے ہیں یا دوسری طرف والوں سے فرمائش کرتے ہیں یہ لوگ کس قدر گنہگار ہوتے بلکہ محض کرنے والا جتنے آدمیوں کو گناہ کی طرف بلاتا ہے جس قدر الگ الگ سب کو گناہ ہوتا ہے وہ سب ملا کر اس اکیلے کو اتنا ہی گناہ ہو گا مثلاً فرض کر لیں کہ مجلس میں سو آدمی آئے تو جتنا گناہ ہر اہر آدمی کو ہوا وہ سب اس اکیلے شخص کو ہوا، یعنی مجلس کرنے والے کو پورے سو آدمیوں کا گناہ ہوا بلکہ اسی کی دیکھا دیکھی جو کوئی جب کبھی ایسی بیٹھک کرے گا یعنی ناچ گانا کرائے گا اس کا گناہ بھی اس کو ہو گا بلکہ اس کے مرنے کے بعد جب تک اس کا بنیاد ڈالا ہوا سلسلہ چلے گا اس وقت تک برابر اس کے نامہ اعمال میں گناہ بڑھتا رہے گا۔ آج کل تو فیشن بن گیا ہے شادی کے موقع پر بازاری عورتوں کو نچانے کا پھر ان کے ساتھ ڈانس کے دوران گندی حرکتیں کرنے کا اور جو نوجوان زیادہ گندی حرکتیں کرتا ہے وہ خود پر فخر محسوس کرتا ہے کہ پورے مجمع میں مجھ سے زیادہ گندی حرکت کوئی نہیں کر سکا۔
جن (باراتیوں) کیلئے ہم اتنا خرچ کرتے ہیں جس وقت مصیبت آتی ہے ان میں سے کوئی پاس کھڑا نہیں ہوتا‘ بلکہ تباہی ہونے پر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مال برباد کرنے کو کس نے کہا تھا؟ اپنے ہاتھوں برباد ہوئے ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جو لوگ خوشحالی میں کہتے تھے کہ جہاں تمہارا پسینہ گرے گا وہاں ہم خون گرانے کو تیار ہیں لیکن جس وقت تباہی آتی ہے ان میں سے ایک بھی پاس کھڑا نہیں ہوتا‘ سب آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور بدل جاتے ہیں اور اپنی اپنی راہ لیتے ہیں‘ خدا نہ کرے کسی پر برا وقت آئے نہیں تو یہ باراتی جن کیلئے ہم قرضے اُٹھا اُٹھا کر ناجائز سہولتیں فراہم کرتے ہیں یہی ہماری مختلف برائیاں کرتے ہوئے روانہ ہو جاتے ہیں کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ یہ تو دنیا ہے بھائی آج کل تو لوگ دنیا میں برے ٹائم پر ساتھ نہیں دیتے تو آخرت میں تو ماں بھی اپنی اولاد کا ساتھ نہیں دے گی۔
دوسرے کا منہ خوشی سے لال دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار مار کر لال نہیں کر لینا چاہئے۔ شادی پر بے جا کی رسموں سے بچیں اور لڑکی اور لڑکے والوں کے بزرگ آپس میں بیٹھ کر تمام ناجائز رسموں کو ختم کریں کم سے کم خرچے میں شادی کو طے کریں۔ حقیقت میں دلہا اور دلہن کا نکاح وجود میں آنا ہوتا ہے۔ بزرگوں کو چاہئے کہ بہترین کردار ادا کریں لیکن میں نے تو آج کل اکثر (سب نہیں) بزرگوں کو ہی فساد کی جڑ پایا ہے جو کہتے پھرتے ہیں فلاں نے ہمیں شادی پر نہیں بلایا تھا ہم بھی نہیں بلائیں گے‘ فلاں نے اپنی بیٹی کو اتنا اچھا جہیز دیا ہماری بہو پتہ نہیں کیا لائے گی‘ فلاں نے اتنی دھوم دھام سے شادی رچائی ہمیں اس سے زیادہ دھوم دھام سے شادی رچانی ہے‘ کہیں کہیں تو بزرگ ہی ڈانس کیلئے بازاری لڑکیاں دھونڈتے نظر آتے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ پوری شادی کے پروگرام میں اللہ کی نافرمانی کے اسباب اکٹھے کر لینا پھر نکاح کے بعد دعا میں اللہ تعالیٰ سے نکاح میں برکت کی دعا مانگنا‘ ہمارے ان سب کارناموں کے نتائج ہمارے سامنے ہیں طلاق میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اہل علم میری اصلاح کریں۔

Facebook Comments