جنات کیا ہیں،انسانی زندگی میں مداخلت کیوں کرتے ہیں

تحریر: عامر محمد
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں مرشد کی خدمت میں تھا۔ جس جگہ ان کا ٹھکانہ تھا اس جگہ سے قریب ترین شہری آبادی پچیس کلومیتر دور تھی۔ خشک بیابان اور ریگستانی سا علاقہ تھا۔اس جگہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں پرانے پیلوں کے پیڑ تھےجس کی ناکافی چھاؤں میں اکثر گیدڑ لومڑیاں اور کبھی کبھار بھیڑئیے دوپہر کے وقت ہانپتے نظر آیا کرتے تھے۔ شہر سے آنے والی کچی پکی برائے نام سی سڑک سے بیس گز دور انگریز کے زمانے کی بنی ہوئی ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کی خستہ دیواریں بظاہر کمزور سی نظر آتی تھیں جن کاپلستر پتہ نہیں کب کا اکھڑ چکا تھا لیکن بہرحال مسجد کی چھت دھوپ کی تمازت سے بچاتی تھی ۔مسجد کا چھوٹا سا صحن جس کا فرش اب بھی سلامت تھا بارش میں پانی سے بھر جاتا تھا جسے نکالنے کے لئے بالٹی کی ضرورت پڑتی تھی۔ مسجد کے سامنے ایک کھوئی(چھوٹا سا کنواں) جس میں پانی بہت نیچے چمکتے سکے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ کھوئی کی ایک دیوار پر سنہ 1908 کھدا ہوا تھا جس سے پتہ چلتا تھا 1908 میں یہ مسجد اور کھوئی بنائی گئی تھی تاکہ آتے جاتے راہگیر نماز پڑھنے کے علاوہ کھوئی کے پانی سے پیاس بجھا سکیں۔ مسجد اور کھوئی سے دس بارہ گز دور سڑک کے قریب ایک مسافر خانہ نما کمرہ بنا ہوا تھا جس کی دیواروں میں ہوادان بنے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کمرے میں گھٹن یا حبس کا احساس نہیں ہوتا تھا۔اسی کمرے میں بابا جی کا قیام تھا۔ ایک دن باباجی ایک قریبی علاقے میں کسی شخص کے ہاں گئے ہوئے تھے اور میں کمرے میں اکیلا فرش پر بچھی چٹائی کے اوپر لیٹا ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ اس وقت دن کے ایک بجے کا وقت تھا کمرے کے اندر باہر ایسا سناٹا تھا کہ ایک تنکے کے گرنے کی آواز بھی صاف سنائی دے سکتی تھی۔ اچانک کمرے سے باہر کسی کے ہنسنے کی بڑی صاف آواز سنائی دی۔ آواز اتنی قریب سے اور واضح تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی کمرے کے اندر ہی موجود ہو۔ میں نے کتاب کا صفح دوہرا کرکے اسے بند کیا اور چٹائی پر رکھ دی اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ صرف دو یا چار سیکنڈ کے بعد ایک بار پھر اسی طرح ہنسنے کی آواز سنائی دی۔آواز مردانہ اور بھاری تھی۔ مجھے شک ہواکہ شاید کوئی شخص ہے جو جان بوجھ کر میرے ساتھ شرارت کر رہا ہے ۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور دبے پاؤں چلتا ہو کمرے سے باہر نکلا۔ کمرے کے سامنے کوئی نہیں تھا۔میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کمرے کے اردگرد چکر کاٹنے لگا۔پورا چکر کاٹ کر پھر کمرے کے سامنے آیا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ دور دور تک ریتلے میدان میں نظر دوڑائی لیکن کہیں بھی کوئی نہیں تھا۔ میرے زہن میں خیال آیا کہ یہ کوئی نہایت چالاک شخص ہے جو میرے چکر لگانے کے دوران کمرے کے گرد دوسری سمت میں چلا جاتا ہے۔ میں نے ریتلی جگہ پر کسی کے قدموں نشان دیکھنے کے لئے ایک بار پھر کمرے گرد چکر لگایا لیکن زمین پر سوائے میرے جوتے کے نشانات کے علاوہ کسی کے قدموں کا معمولی سا نشان تک نہیں تھا۔ یہ کسی نادیدہ ہستی کا ہی کام تھا۔ میں خاموشی سے واپس کمرے میں آ گیا اور چٹائی پر بیٹھ گیا اور صورتحال پر غور کرنے لگا۔ چند ہی لمحے گذرے تھے کہ ایک بار پھر زوردار ہنسی گونجی لیکن اس بار یہ ایک طویل قہقہے کی مانند تھی۔ کوئی شک ہی نہیں رہا تھا یہ کام غیر مرئی مخلوق کا تھا۔اس بارے بابا جی کی نصیحت تھی کہ اس مخلوق کے سامنے کمزوری کا اظہار نہیں کرنا چاہئیے بلکہ اگر مضبوطی کا اظہار کیا جائے یعنی ان کو احساس دلایا جائے کہ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں تو یہ مایوس ہو کر خاموشی سے چلی جاتی ہیں۔ جونہی آپ ان سے خوفزدہ ہوتے ہیں تھر تھر کانپنے لگتے ہیں یا بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اور بھی زیادہ ڈرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا مقصد انسانوں کو اس جگہ سے دور کرنا ہوتا ہے تاکہ اس جگہ کو اپنا مسکن بنا کر آرام سکون سے رہ سکیں۔ س مخلوق کی جسمانی ترکیب اور دماغی ساخت انسان سے مختلف اور کم درجے کی مگر ایسے عناصر سے بنی ہوتی کہ ان کے جسم نظر بھی آسکتے ہیں نہیں بھی آسکتے، ان میں اپنی مرضی کی ہر صورت اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتے ہوئے بھی انسانی دماغ کی طاقتور لہروں سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ انسان کے اعصابی نظام اور دل و دماغ سے نکلنے والی طول موج (ویو لینتھ) کی لہریں ان کے وجود کے لئے زہریلی گیس کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انسان نے جس طرح دوسری عنصری قوتوں جیسا کہ بھاپ، بجلی ، ایٹمی توانائی اور مقناطیسیت وغیرہ کوتسخیر کر کے انہیں اپنے مفادمیں استعمال کر رہا ہے اسی طرح اپنی خود اعتمادی اور قوت ارادی سے ان عنصر زاد مخلوقات کو تابع بنا یاجا سکتا ہے اس لئے کسی بھی شخص کوآسیب ، جنات یا چھلاؤں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
اہل علم کا خیال ہے کہ فضا میں کچھ کم شعور توانائیاں کارفرما ہوتی ہیں جنہیں ہم ایک دھندلی یا ادھوری شخصیت کی مثال دے سکتے ہیں، ان نیم تاریک آوارہ گردوں کی اکثر حرکات غیر ارادی اور خود کاری ہوتی ہیں جو انسانی شعور اور ارادے سے خوفزدہ رہتی ہے۔ خلا میں تیرنے والی یہ قوت کردوں اکائیوں میں تقسیم ہے جوناقص، محدود اور ناقص وجود کی مالک ہیں۔ ان اکائیوں کو عنصری مخلوق یا قوائے عنصری کہا جاتا ہے۔
انسانی جسم مختلف قسم کے لطیف سالموں، جزوں، جسموں یا جثوں کا مجموعہ ہوتاہے جیسا کہ مغزکے اندر مغزکی تہیں اور گوشت کے ساتھ گوشت کی باطفتیں گندھی ہوتی ہیں ، اسی طرح وجودِ انساں میں سات لطیفے موجود ہوتے ہیں ، جن میں اہم لطیفہ زیرناف ( لطیفہٗ نفس) ،لطیفہ ٗقلب، لطیفہٗ روح اور لطیفہء سر ہوتے ہیں جوعام زندگی میں تو محدودہوتے ہیں مگر ریاضت، عبادت، نیکی، ذکر، پاکائی اور مرشد کی رہنمائی سے اپنا دائرہ کارِ عمل بڑہاتے رہتے ہیں۔ عامل کی دعوت کا عمل لطیفہء نفس سے شروع ہوتا ہے جواس مقام ناسوت میں واقع ہے جس سے شیاطین اور سفلی روحیں تعلق رکھتی ہیں، اس لئے دعوت تسخیر جنات کا عمل شروع ہوتے ہی اس لطیفہ میں تحرک پیدا ہوکر ایک ایسی ماورائی قوت جنم دیتا ہے جو جنات اور سفلی ارواح کی مرغوب غذا ہوتی ہے جس پانے کی لالچ میں نادیدہ مخلوق حاضر ہوکر اہلِ دعوت کی فرمانبردار ہو جاتی ہیں اس لئے ہی اسے دعوت عمل کہتے ہیں۔
کیا جنات کو تسخیر کیا جا سکتا ہے؟؟؟۔ اس نادیدہ ناری مخلوق یا آتش زادوں کی حاضرات اور تسخیر کا معاملہ بازیچہ اطفال نہیں ہوتا اس لئے دورانِ عمل پڑہنے والوں کو سخت ترین جسمانی آزمائشوں، ذہنی کٹھنائیوں اورروحانی مشکلوں کی وادی ء پرخارسے گزرنا پڑتا ہے۔ ذہن و قلب پر ہر وقت نظر نہ آنے والے ان مہیب سایوں سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ننگی تلوار کی طرح لٹکتا رہتا ہے۔ کوئی بھی ذی نفس آسانی سے کسی کی غلامی میں آنا پسند نہیں کرتا اس لئے معمول اپنے عامل کو ہر طرح سے بھٹکانے کی تگ و دو کے حیلے بہانے کرتے رہے ہیں، اس لئے ذرا سی بے احتیاتی اہلِ دعوت کے لئے کانٹوں کی کھیتی اگانے کے ساتھ عمل کا الٹے ہوجانے (رجعت)کا موجب بن جاتی ہے جس کا ازالہ مشکل ہونے کے ساتھ ہر ممکن نقصان کا امکان موجود ہوتا ہے۔ تسخیرِ جنات انسانی ذہن میں ایک رومانوی فکر کو جنم دیتی ہے جس کے حصول کی لالچ میں بہت سے لوگ اس عمل کو سہل جان کر نہ صرف اس کے خواہشمند ہوتے ہیں بلکہ سوچے سمجھے بغیر یا کسی کے کہے سنے پرعمل شروع کردیتے ہیں جوکہ انتہائی تباہ کن ہے۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تسخیرِ جنات کی مہمات روح افزا کم اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہیں اس لئے مکمل ضوابط اور شرائط جاننے کے ساتھ کسی عامل و عارف کی نگرانی اور اجازت کے بغیر اس کوچے میں قدم نہیں رکھنا چاہیے ورنہ ایسی عمل خوانیوں کے نتیجہ میں لوگ اپنی جان گنوا نے کے ساتھ پاگل اور مخبوط الحواس بنادیئے جاتے ہیں۔کچھ لکھاری کے بارے میں: عامر محمد روزمرہ زندگی کے تلخ تجربات شیئرکرتے رہتے ہیں ، وہ سماجی کارکن ہیں اور اپنے دوست احباب کے تعاون سے کئی حق دار ،نادار لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں اور تصوف و تاریخ عالم  پر زیرتکمیل کتابوں کے مصنف ہیں۔

۔

نوٹ: رحیم یار خان نیوزمیں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Facebook Comments