’’پرندوں کا اعتبار بھی اُٹھ گیا‘‘

’’پرندوں کا اعتبار بھی اُٹھ گیا‘‘
مسیح اللہ خان جام پوری
روزانہ صبح سویرے پرندوں کیلئے صاف پانی پرات میں ڈالتا ہوں اور دوسری پرات میں دانا۔ کبھی کبھار بھول بھی جاتا ہوں‘ آج بھی ایسا ہوا کہ دوپہر کے وقت اُٹھا‘ دفتر جانے کیلئے باہر نکلا‘ دیکھا کہ چڑیاں پرات میں نہا رہی ہیں‘ قریب گیا تو چڑیاں اُڑ گئی پرات میں پتے پڑے تھے اور پانی خراب ہو چکا تھا‘ میں نے پانی گرا دیا اور پرات کو صاف کیا اور تازہ پانی پرات میں ڈال دیا‘ ساتھ ہی باجرہ بھی دوسری پرات میں ڈالا‘ میں نہال ہو کر لان میں کرسی لیکر چھاؤں میں بیٹھ گیا کہ دیکھوں کہ چڑیاں اب کس مزے سے نہائیں گی اور خوش ہوں گی‘ لیکن چڑیاں نہیں اُتریں اور انار اور لیموں کے پودوں کی ٹہنیوں پر بیٹھی رہیں‘ مجھے یہ صورتحال دیکھ کر چڑیوں پر بدنیتی کا شبہ ہوا کہ وہ مجھ پر بھروسہ سے کام نہیں لے رہی ‘ خوفزدہ ہیں اور نیچے نہیں اُتر رہیں‘ میں کافی دیر بیٹھا یہ منظر دیکھتا رہا ‘ لیکن چڑیاں نہیں اُتریں‘ جب میں جانے کیلئے اُٹھا تو دیکھا کہ چڑیاں پھڑ پھڑ کرتی نیچے اُتر رہی ہیں‘ اسی اثناء میں غنی چودھری کی وہ بات یاد آگئی ‘ وہ اے پی پی کی طرف سے لندن میں متعین تھے کہتے ہیں کہ ایک روز وہ مونگ پھلی لیکر ہائیڈ پارک چلے گئے‘ وہاں بینچ پر بیٹھ کر مونگ پھلی کھانے لگے‘ اسی دوران انہیں کرچ کرچ کی آواز سنائی دی‘ دیکھا اخبار پر پڑی مونگ پھلی ساتھ بیٹھی گلہری مزے لے لے کر کھا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے مونگ پھلی کا دانہ اُٹھایا لیکن بن بلائے مہمان بنی گلہری ٹس مس نہیں ہوئی۔
غنی چودھری نے بتایا کہ برطانیہ میں پرندوں اور جانداروں کو کوئی کچھ نہیں کہتا اور نہ انہیں کوئی دھوکے سے مارتا ہے‘ اس لئے پرندوں میں انسانوں پر اعتماد بڑھ چکا ہے‘ وہ بغیر کسی خوف و خطر کے قریب آکر کھانا شروع کر دیتے ہیں‘ تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ نیت چڑیوں کی خراب نہیں بلکہ یہاں انسان کا ذہن آلودہ ہے‘ پرندے بھی صدیوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسان قابل اعتبار نہیں رہا۔

Facebook Comments