جائیں تو جائیں کد ھر۔۔

جس ملک و قوم میں استاد کو سزادینا سب سے آسان اور عام فعل بن جائے اُس قوم کی تعلیمی حالت کیا ہوگی۔ اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا اور بدقسمتی سے موجودہ تعلیم و ترقی کے اس انقلابی دور میں پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب کے اندر اساتذہ کو بنا قصور ذہنی اور معاشی طور پر سزائیں دینا ایک عام فعل بن چکا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں جہاں اور بہت سے مسائل ہیں وہاں شرح خواندگی میں کمی اور اس پہ مزید سکولز سے بچوں کا ڈراپ آوٹ ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے ۔مگر ان دونوں مسائل کے پیچھے جو اسباب و عناصر ہیں اُن کے تدارک میں استاد کا کردار باوجود کوشش کے کوئی قابل ذکر اضافہ یا تبدیلی ثابت نہیں ہوسکتا۔ہمارے ملک خاص طور پہ صوبہ پنجاب کی بات کروں گی تو شرح خواندگی میں کمی اور بچوں کے سکولز سے ڈراپ آوٹ کے پیچھے دو بڑے اسباب و عناصر کارفرماہیں۔ نمبر1 غربت اور نمبر2 لوگوں خصوصاً والدین کی قدامت پسند سوچ جو تعلیمی ضرورت کی نفی کرتی ہے ۔ اب ان دونوں اسباب کے خاتمے میں استاد کا کردار کہاں تک باوجود کوشش کے تبدیلی لاسکتا ہے جہاں اسے خود اپنی سروس کے دوران ہر روز لمحہ ہر وقت، وقت کی گھڑیوں کی سوئیوں کی طرح چلنے پہ مجبور کرنے کیلئے مانٹیرنگ ٹیموں کی سخت مانیٹرنگ موجود ہو؟
استاد سکول کے اندر کلاس روم میں موجود طلباء کی تعلیم و تربیت کا ذمہ دار تو ہے مگر غریب بچوں کے تمام بنیادی ضروریات کی تشفی کردا کے انہیں ہر روز سکول لانے کا ذمہ دار نہیں بن سکتا ۔ اور نہ اُن والدین کی مخصوص ذہنی حالت و خیالات کو بدل سکتا ہے جس سے وہ تعلیم دشمن بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بات کسی ذی ہوش ذی شعور شخص سے چُھپی ہوئی کہ ہمارے ملک میں شرح خواندگی میں کمی اور بچوں کے ڈراپ آؤٹ کی بنیادی وجہ غربت ہے ۔ جن لوگوں کو رات دن روٹی کپڑے ہی کے لالے پڑے رہیں اُن کے نزدیک بچے کو سکول بھیجنا ایک بہت بڑی عیاشی سے کم نہیں۔حکومت کی مفت کتب تقسیم میں بچوں کو بُکس تو مل جاتی ہیں مگر لکھنے کو کاغذ، پنسل، پن،بستہ اور پہننے کو یونیفارم اور کھانے کو بغیر والدین کا ہاتھ بٹانے پیٹ بھر روٹی کون دے گا جو بچے بے فکر ہوکر ان دی گئی مفت بُکس کو پڑھ سکے؟
ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے جس کی 80% زراعت غریب ہاری اور کھیت مزدور کی ان تھک محنت پر انحصار کرتی ہے ان غریب ہاری اور کھیت مزدور گھرانوں میں ایک نو عمر لڑکی اپنی محنت کش ماں کی عدم موجودگی میں جہاں گھر کے تمام کام سنبھالتی ہے وہاں اپنی ماں کے یکے بعد دیگرے پیدا ہونے والے بہت سے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے ۔ اسی گھر کا نوعمر لڑکا بھی ماں باپ کے ساتھ کھیتوں میں صبح سے شام تک کام کر کے اپنے گھر اور خاندان کا پیٹ بھرنے کا سامان کرتا ہے ۔ فصل کے پکنے، کٹنے اور پھر نئی فصل بونے تک ان ہاری اور مزدور گھرانوں کے بچوں کے کام کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں ۔ ایسے میں سکول جانے یا بھیجنے کا سوچے تو کون سوچے ؟ اور استاد بچارا کرے تو کیا کرے ؟
اگر چند پر عزم استاد غریب اور مزدور گھرانوں اور گھروں میں ماسیوں کا کام کرنے والی عورتوں کے بچوں کو اپنی پیشہ ورانہ لگن اور توجہ سے سکول لانے میں کامیاب ہوبھی جائیں تو یہ کامیابی دائمی نہیں ہوپاتی ۔ سکول سے مجبوریوں کی بنا پر چھٹیاں کرتے یہ غریب سائل زدہ بچے رفتہ رفتہ سکول سے مستقل غائب ہوجاتے ہیں اور بچارے استاد پر بے بس ہوکر سکول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے جھڑکیاں کھانے اور معاشی طور پر بھی دی جانے والی سزا کے لئے رہ جاتے ہیں۔
سکول کے ڈراپ آؤٹ میں ایک دوسرا اہم مسئلہ ہماری عوام میں چند لوگوں کی ذہنی سوچ بھی ہے ۔ روٹی کپڑے کے بہتر وسائل رکھنے والے یہ لوگ اپنے لڑکوں کو اپنے آبائی ہنر اور پیشے میں کھپانے اور لڑکیوں کو خصوصاً مڈل جماعتوں کے دوران ہی سکول چھڑوا کر گھر بٹھا کر سلائی کڑھائی سکھانے اور جلد شادی کردینے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بڑھتی جماعتوں کے دوران بچیوں کے سکول لانے لیجانے کے انتظامات کرنا، تعلیمی اخراجات پورے کرنا اور بورڈ کی مہنگی فیس ادا کرنا بالکل بے کار اور بے فائدہ عمل ہے ۔ یہی سوچ اور عمل دوران تعلیم چھٹی جماعت سے نویں جماعت تک بچیوں کے ڈراپ آؤٹ کی بڑی وجہ بن جاتا ہے ۔ ان حالات م یں پھر استاد کا کردار اور کوشش کوئی مثبت تبدیلی لانے سے قاصر نظر آتی ہے ۔ آخر کار جواب دہی پھر اُستاد ہی کی ہے اور شامت بھی اُسی کی ۔ کبھی ڈراپ آؤٹ پر سالانہ انکریمنٹ کٹ جانے کی سزائیں تو کبھی اعلیٰ تعلیمی افسران کے سامنے زبانی و تحریری سخت قسم کی سرزنش اب استاد جائے جائے کدھر۔۔۔۔؟
ہماری سرکار معاشرے کی ذہنی سوچ کو، سماجی سیٹ اپ کو تو آسانی سے تبدیل نہیں کرسکتی مگر غربت کی وجہ سے مجبور غریب کے بچے کو معاشی طور پر کچھ آسودہ کر کے سکول لائے جانے کے مستقل انتظامات ضرور کرسکتی ہے ۔ اگر ہر غریب بچے کو مفت کُتب کے ساتھ ساتھ ماہانہ وظیفہ بھی ملنے لگے اور منصفانہ طور پر بغیر رکاوٹ کے ملنے لگے تو پھر ہر غریب بچہ گھر، کھیت اور مزدوری کے اڈوں پر نہیں بلکہ سکول کے اندر ہوگا۔
اور جہاں تک ہمارے سرکاری ٹیچرز(اساتذہ) کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں اور لگن جذبے کی بات ہے وہ تو یہی بچارا کہتا ہے ۔
تقدیر کے مارے سارے ہیں
یہ سرکاری ٹیچرز کتنے بچارے ہیں
ذہنی حالت اب ان کی کیا ہوگی
ہر دم گردش میں جن کے ستارے ہیں
کبھی EDO کی عتابی تو کبھی مانیٹرنگ کی عقابی
یہ لوگ تو بس چیکنگوں کے مارے ہی
شرح خواندگی کم تو نکلے قصور انکا
ڈراپ آؤٹ کہ ذمہ دار بھی یہی سارے ہیں
کبھی افسروں کی زبانی سرزنش تو کبھی انکریمنٹ سے محرومی
بنا قصور یہ سختیاں سہتے سارے ہیں
پھر بھی ان کا جذبہ دیکھو تم!
یہ کہتے پھرتے سارے ہیں
جتنے بھی نکمے بھگوڑے بچے وطن کے
یہ سارے بچے ہی ہمارے ہیں
ہم ہی تراشتے گے ان کو ہر دم
یہ سارے ہیرے ہمارے ہیں
یہ سارے بچے ہمارے ہیں
تقدیر کے مارے سارے ہیں
یہ سرکاری ٹیچر کتنے بچارے ہیں
اشفاق احمد منٹھار

Facebook Comments