2 لاکھ دیکر خودکش جیکٹ لاہور منگوائی، سہولت کار انوارالحق کا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مال روڈ پر دھماکے کیلئے خودکش حملہ آور کو لاہور میں رہنمائی اور معاونت فراہم کرنے والے انوارالحق جو لنڈا بازار میں دکان کرتا ہے کے 7 بھائی بھی گرفتار کرلئے۔ واضح رہے کہ سہولت کار کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کیا گیا تھا۔ ادارے اس کے بھائیوں سے تفتیش کررہے ہیں دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس کے دوران خودکش حملہ آور کے سہولت کار کا اعترافی ویڈیو بیان چلایا گیا۔ باجوڑ کے رہائشی انوارالحق نے کہا خودکش بمبار نصراللہ افغانستان کے علاقے کنڑ کا رہنے والا تھا اور خودکش جیکٹ میرے پاس 20‘ 25دن پہلے پہنچی تھی۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کا عارف نامی شخص مجھے ملا اور اس نے مجھے یہ خودکش جیکٹ دی۔ انوارالحق نے بتایا کہ پشاور میں اس نے ٹرک والوں سے بات کی اور جیکٹ کو لاہور پہنچانے کیلئے 2 لاکھ روپے میں بات طے ہوئی اور پھر یہ خودکش جیکٹ مجھے لاہور پہنچائی گئی جبکہ خودکش بمبار کو میں خود پشاور سے لیکر لاہور آیا اور خودکش بمبار فون بھی استعمال کر رہا تھا۔سہولت کار نے بتایا کہ میں نے افغانستان سے تربیت حاصل کی اور پندرہ بیس مرتبہ افغانستان جا چکا ہوں اور میرا تنظیمی نام ابو ہریرہ ہے۔ مجھے پولیس پر حملے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا اور 13 فروری کو چیئرنگ کراس پر پولیس والے موجود تھے اور اس ٹارگٹ کو دیکھ کر میں نے خودکش بمبار کو وہاں چھوڑا۔

Facebook Comments