تھانہ صدر پولیس گردی کا وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے نوٹس،ڈی پی او رحیم یار خان کو تحقیقات کے بعد رپورٹ کرنے کا حکم

خا ن پور(نیوز رپورٹ)تھانہ صدر پولیس گردی کا وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے نوٹس،ڈی پی او رحیم یار خان کو تحقیقات کے بعد رپورٹ کرنے کا حکم،ایس پی انوسٹی گیسن کی سر براہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ایس ایچ او تھانہ صدر چوہدری محمد یونس اور چوہدری بشیر اے ایس آئیکی سر براہی میں پولیس کی بھاری نفری نے گڑھی اختیار خان کے رہائشی نذیر احمد کے گھر گھس کر اسکے اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے نذیر احمد کی بیوی اللہ وسائی کے نو مولود بچے کی ہلاکت ہو گئی اور پولیس کے شیر جوانوں نے الٹا محنت کش نذیر احمد اور اسکے بیٹوں اور بھائیوں پر اس آصف نامی اس شخص کی مدعیت فائرنگ کرنے کا جھوٹا مقدمہ درج کردیا جس کے بھائی راشد نے محنت کش نذیر احمد کی بھابھی سمیہ بی بی سے ناجائز تعلقات استوار کرکے اسے لاکھوں روپے مالیت کے گھریلو سامان،زیورات اور نقدی سمیت بھگا لے گیا تھااور پولیس نے بھی بھاری رشوت لیکر انہی کی فرمائش پر غریب محنت کش نذیر احمد کے گھر دھاوا بولا تھا۔اپنے ساتھ پیش آنیوالے ظلم کی یہ داستان جب متا ثرہ نذیر احمد نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جاکر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اپنی در خواست میں بیان کی تو وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو فوری واقعہ کی تحقیقات کرکے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ کرنے کا حکم دیا جس پر ڈی پی او رحیم یار خان ذیشان اصغر نے ایس پی انوسٹی گیشن عرفان سموں کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر دیا ہے۔متاثرہ نذیر احمد نے صحا فیوں کو بتایا ہے کہ مجھ پر تھانہ صدر کے قائمقام ایس ایچ او چوہدری محمد یونس کی قیادت میں جس طرح طلم کیا گیا ہے اسکی کہیں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس پیش ہواہوں ،انصاف کی یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن مجھے پھر بھی انصاف نہ ملا تو یہاں سے پٹرول لیکر لاہور جاؤں گا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے اپنی بیوی بچوں سمیت خود سوزی کروں گا تاکہ میری خود سوزی سے شاید کرپشن اور ظلم کی روایت کا خاتمہ ہو اور پولیس گردی سے اور لوگ بچ سکیں۔

Facebook Comments