چوری کے شبہ میں رقاصاؤں کا ملازم اغوا کر کے تشدد او ر کرنٹ لگا کر قتل کرنے کا انکشاف

خان پور (رحیم یارخان نیوز)چوری کے شبہ میں رقاصاؤں کا ملازم اغوا کر کے تشدد او ر کرنٹ لگا کر قتل کرنے کا انکشاف
خان پور :ملزمان کا لاش تھانہ سٹی خان پور چھوڑ کر فرار پولیس نے بغیر پوسٹ مارٹم کے زبردستی لاش دفن کروا دی
خان پور :مقتول کے بھائی نے مقدمہ درج نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کر لیا
خان پور :ملزمان کی طرف سے اتفاقی حادثہ قرار دے کر وقوعہ چھپانے کی کوششیں جاری
خان پور : چوری کے شبہ میں خان پور کی رقاصاؤں کا 15سالہ لڑکے کو اغوا کرنے کے بعد تشدد اور کرنٹ لگا کر قتل کرنے کا انکشاف لاش کو بغیر پوسٹ مارٹم کے زبردستی دفنا دیا گیا ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ انصاف کی اپیل پولیس کی طرف سے مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل مدعی نے اندراج مقدمہ کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ریاض کالونی خان پور کے رہائشی محمد اکمل ولد صادق چانڈیہ نے ایڈیشنل سیشن جج خان پور کی عدالت میں اندراج مقدمہ کی رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کا چھوٹا بھائی محمد شہباز جس کی عمر 15سال تھی وہ الزام علیہان راجہ ،صائمہ، سونم ،نیہا ،عینی گوری فرید آباد نزد گولڈن سینما خان پور جو کہ خان پور کی مشہور رقاصائیں ہیں ان کے گھر بطور ملازم کام کرتا تھا کچھ عرصہ قبل راجہ وغیرہ نے شہباز پر گھر سے قیمتی سامان چوری کر نے کا الزام لگایا اور سامان واپس نہ کرنے کی پاداش میں شہباز کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں جس پر مقتول شہباز نے الزام علیہان کو برحلف صفائی پیش کر دی راجہ وغیرہ نے اسے نوکری سے نکال دیا تھا کچھ دن بعد راجہ وغیرہ نے مقتول بھائی شہباز کو ورغلا پھسلا کر نوکری دینے کے بہانے اغوا کر لیا اور اسے نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا بعد میں تشدد کر کے اور کرنٹ لگا کر قتل کر دیا اور میرے بھائی کی لاش کو تھانہ سٹی خان پور میں چھوڑ کر فرار ہو گئے اور تھانہ سٹی پولیس کے ساتھ ملی بھگت کر کے خود کو این جی اووز کا نمائندہ ظاہر کر کے لاوارث لاش چھوڑ گئے پولیس نے دباؤ دے کر لاش دفنا دی پٹیشنر محمد اکمل او دیگر ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ محمد شہباز کو قتل کیا گیا ہے جبکہ ملزمان اس قتل کو چھپانے کے لیے سندھ کا جھوٹا وقوعہ بیان کر کے غلط بیانی کر رہے ہیں ہمیں انصاف دیا جائے کیونکہ محمد شہباز کے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر زخم کے واضح نشان ہیں اور تھانہ سٹی خان پور پولیس ہمارا مقدمہ درج نہیں کر رہی جبکہ رابطہ کرنے پر پولیس کا کہنا ہے واقعی وہ لاش لے کر آئے تھے اور چھوڑ کر چلے گئے ہیں وقوعہ سندھ میں ہوا ہے اس لیے ہم کوئی کاروائی نہیں کر سکتے ،
میڈیا کے رابطہ کرنے پر الزم علیہان مفروری کے باعث ٹیلی فون پر اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اتفاقی حادثہ ہوا ہے اور لڑکے کو کرنٹ لگا ہے جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے ۔

Facebook Comments