سقوط مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا المناک باب ہے

صادق آباد (ویب نیوز)سقوط مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا المناک باب ہے۔ اگرحمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ شائع ہوجاتی تو امکان تھا کہ اصل حقائق منظر عام پر آجاتے۔ ان خیالات کا اظہار بزم اقبال رحیم یارخان کے صدر خالد بن بشیرنے گزشتہ روز پریس کلب ہال صادق آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بزم اقبال کے زیراہتمام سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر بزم اقبال خالد بن بشیر نے کہا جو قومیں ماضی کوبھلا کر مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتی ہیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ 16دسمبر سقوط ڈھاکہ ہویا آرمی پبلک سکول پشاور کاسانحہ ہمار ی کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے نئی نسل آج یہ بھی نہیں جانتی کہ بنگلہ دیش کبھی مشرقی پاکستان تھا۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہاں کے مسلمان ہم سے زیادہ محب وطن تھے۔ لیکن افسوس ریشم کی اس سرزمین کو ہم نے بندوق کی نوک پر اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش کی ۔ سیاست دان بھی اپنی کوتاہیوں کا ادراک کرتے ہوئے بچے کھچے پاکستان کی حفاظت کیلئے کمر بستہ ہوجائیں اورہندو بنیاء کی مکاری کوسمجھتے ہوئے قومی وقارکیلئے متحد ہوجائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا سقوط مشرقی پاکستان میں ان لوگوں نے اہم کردار ادا کیا جو ہمیشہ سے مارشل لاء لگانے والوں کی حمایت اور تائید کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے آخر میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ کلام اقبال کے بڑے حصے کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ طلباء میں خودی اور غیرت اور محبت پیدا ہوسکے۔ پروفیسر سجاد منصور نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کے مضمرات کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ باقی ماندہ ملک میں دوبارہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔ بنگلہ دیش میں آج بھی پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ ہمیں قومی سطح پراس قتل عام کو رکوانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھانی چاہئے۔ سیمینار میں صحافی برادری کے علاوہ عبد اللہ نجیب رانا، ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر زاہد حسین ، چراغ دین و دیگر نے شرکت کی۔ آخر میں بھارتی افواج بکتی بانی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونیوالوں اور سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعا کروائی گئی ۔

Facebook Comments