دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور سعودی عرب کی قربانیوں کی قدر نہیں کی

صادق آباد ( نیوزرپورٹ ) جمعیت علماء اسلام ( س ) کے مرکزی رہنما رانا سرور اعجاز خاں نے کہا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور سعودی عرب کی قربانیوں کی قدر نہیں کی۔پاکستان اور سعودی عرب کے بارے میں امریکہ کا رویہ طوطا چشمی والا ہے۔ امریکہ ایک طرف نائن الیون کا ملبہ سعودی عرب پر ڈالنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی فوجی امداد کیلئے کڑی شرائط عائد کررہا ہے۔ امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی دفاعی اور اقتصادی تعاون کے 40 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے کیے۔ پاک سعودی قیادت کو اب کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ اسلامی ممالک کو اپنی خود مختاری اور سلامتی میں کسی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا۔ امریکہ نے پاکستان سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے امریکی کی غلامی قبول کرنی ہے یا اپنا وقار بحال کرنا ہے۔ ملکی مفادات کا تقاضا ہے کہ طوطاچشم امریکہ کی اصلیت پہچان کر ازسرنو قومی خارجہ پالیسی مرتب کی جائے اور اپنا وزن چین اور دیگر مخلص ممالک میں ڈالا جائے۔ جن کے ساتھ علاقائی ہی نہیں‘ ہماری اپنی سلامتی اور اقتصادی ترقی سے متعلق مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ امداد کے نام پر سلامتی اور قومی مفادات داؤ پر نہیں لگائے جاسکتے۔امریکہ نے ہر معاملے میں ہمارے دشمن بھارت کو ترجیح دی۔ انھوں نے کہاکہ دوسری طرف امریکی سینٹ کی طرف سے نائن الیون حملوں میں مارے جانیوالے افراد کے لواحقین کو سعودی عرب کیخلاف نقصان کے ازالے کیلئے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینے کا بل منظور کرکے اپنے بغض کا مظاہر ہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون حملے میں سعودیوں اور سعودی عرب کے ملوث ہونے میں بڑا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کی طرف سے اس حملے میں ملوث ہونے کی ہمیشہ تردید کی گئی ہے۔ اگر سعودی عرب نائن الیون حملے میں ملوث ہوتا تو امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اس نوعیت کے نہ ہوتے جو ان حملوں کے بعد سے اب تک رہے ہیں۔ سعودی عرب نے نائن الیون میں ملوث لوگوں سے ہمیشہ لاتعلقی اختیار کی۔ انکی دہشتگردی کا ملبہ سعودی عرب پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

Facebook Comments