حکومت صوبائی بجٹ میں صوبے کے 10کروڑعوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرے

۔صادق آباد ( رحیم یار خان نیوز ٹیم )جماعت اسلامی کے امیرحاجی عبدالعزیز نے کہاہے کہ حکومت صوبائی بجٹ میں صوبے کے 10کروڑعوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرے اورتنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے کم از کم پچاس فیصد تک اضافہ کیاجائے۔1650ارب کے حجم والے پنجاب کے بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لئے 550ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ گزشتہ بجٹ میں37فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہی نہیں کیاجاسکا۔محض فنڈز تجویزکردینے سے صوبے میں ترقی نہیں ہوسکتی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کوپابندکیاجائے تاکہ وہ عوام کی فلاح وبہبود کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔زراعت پر50ارب اور سڑکوں کی تعمیر پر70ارب روپے مختص کرنا حکمرانوں کی غلط ترجیحات ہیں۔ انھون نے مزیدکہاکہ وفاقی بجٹ کی طرح پنجاب بجٹ میں عوام کومایوس نہ کیاجائے۔صوبے میں لاقانیت کی انتہاہوچکی ہے ۔امن وامان کی صورتحال کوبہتر بنایاجائے۔صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکمرانوں کی ترجیحات میں عوامی مسائل کا حل نہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف لوگوں کو دووقت کی روٹی میسر نہیں جبکہ دوسری جانب حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات کی فہرست طویل ہوتی چلی جارہی ہے۔رمضان المبارک میں بھی عوام کو ریلیف میسر نہیں۔سستے بازاروں میں ناقص اشیاء کی شکایات عام ہیں۔گراں فروشی عروج پر ہے۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال اور حکومتی نمائندے غائب ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے ذمہ ملکی وبیرونی قرضوں کا حجم 8سوارب سے تجاوز کرگیا ہے۔ماضی کی دانش سکول اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکیمیں ناکام ہوچکی ہیں۔رواں سال4ہزارسے زائد صوبائی حکومت کے خلاف مظاہرے ہوچکے ہیں۔صوبے میں بے روزگاری کی شرح 7فیصد تک پہنچ چکی ہے۔پنجاب کی سالانہ ترقی کی شرح4فیصد تک ہے۔

Facebook Comments